امریکا، ایچ آئی وی اور ہپاٹائٹس کے اثرات والے انسانی اعضا فروخت کرنے پر تاجر کو 9 سال قید

بدھ مئی 10:50

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) امریکا کی ایک عدالت نے انسانی اعضا فروخت کرنے والے ایک تاجر آرتھر رتھ برنکو 9سال قید کی سزا سنادی ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق آرتھر رتھ برن پر الزام ہے کہ وہ میڈیکل پڑھانے والوں کو ایسے اعضا فروخت کرتے رہے ہیں جن میں بیماریوں کے جراثیم یا وائرس موجود تھے۔فیڈرل انوسٹی گیشن بیورو کے تفتیشی افسروں کا کہناہے کہ 64 سالہ آرتھر نے 1997ء سے 2013ء تک اپنے اس کاروبار کے ذریعے ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمائے۔

ایف بی آئی کے پراسیکیورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ انسانی اعضا طبی علوم پڑھانے والوں کو فروخت کرتا تھا یا کرائے پر دیتا تھا۔ایف بی آئی کے پراسیکیورٹرز نے جنوری میں عدالت کو بتایا تھا کہ آرتھر نے ڈیٹرائٹ میں اپنا ایک گودام قائم کیا ہوا تھا، جہاں فریزرز میں انسانی اعضا تہہ در تہہ رکھے ہوئے تھے اور وہ ان کی دیکھ بھال نہیں کرتا تھا۔

(جاری ہے)

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس کے گودام میں رکھے جانے والے انسانی اعضا ان افراد کے تھے جوان کی موت کے بعد رشتے داروں نے سائنسی تحقیق کے لیے عطیہ کر دیئے تھے۔امریکی قوانین کے تحت انسانی اعضا کی فروخت جرم نہیں ہے۔ تاہم آرتھر پر یہ الزام ہے کہ اس نے ایسے اعضا فروخت کیے جس میں کئی ایک میں ایچ آئی وی اور ہپاٹائٹس کے اثرات موجود تھے ۔

متعلقہ عنوان :