فاٹا کو آئندہ 10 سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100 ارب روپے سالانہ بنیادوں پر دیئے جائیں گے،ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن

جمعرات مئی 18:22

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن و فاٹا اصلاحات کے حوالہ سے قائمہ کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ فاٹا کو آئندہ 10 سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100 ارب روپے سالانہ بنیادوں پر دیئے جائیں گے، فاٹا کو کے پی کے میں ضم ڈیڑھ سال قبل ہو جانا چاہئے تھا مگر جمعیت علماء اسلام (ف) اور پختونخوا ملی پارٹی نے مخالفت کی، فاٹا بل آج اسمبلی سے پاس ہو گیا جبکہ (کل) جمعہ کو سینٹ سے منظور ہو جانے کے بعد قانون کا حصہ بن جائے گا۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے فاٹا اصلاحات کے حوالہ سے مجھے ذمہ داریاں دیں، کمیٹی نے فاٹا کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، وہاں پر عوام اور سیاسی رہنمائوں سے مشاورت کی اور اس کے بعد فاٹا انضمام کے حوالہ سے فیصلہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے فاٹا کو 10 سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100 ارب روپے سالانہ دینے کی تجویز دی تھی جو منظور کر لی گئی۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کے بعد فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں بھی نشستیں مل جائیں گی جبکہ فاٹا سے ایف سی آر کا خاتمہ فاٹا کے عوام کیلئے ایک نیک شگون ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ڈیڑھ سال قبل ضم ہو جانا چاہئے تھا تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں جمعیت علماء اسلام (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے مخالفت کی اور آج وہ اس مؤقف پر قائم رہے، آج ان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی داوڑ کنڈی نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے۔