بھارت اور پاکستان کا اپنے اپنے کوسٹ گارڈزکے درمیان تعاون کو یقینی بنانے پر رضا مندی کا اظہار

دونوں ممالک کے ماہی گیروں کی رہائی کے طریقہ کار کو آزادبنانے کے اقدامات کے طریقہ کار پرگفتگو کی گئی

منگل مئی 13:49

بھارت اور پاکستان کا اپنے اپنے کوسٹ گارڈزکے درمیان تعاون کو یقینی بنانے ..
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) بھارت اور پاکستان نے اپنے اپنے کوسٹ گارڈزکے درمیان تعاون کو یقینی بنانے پر رضا مندی کا اظہار کیا۔ایک بھارتی اخبار کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے ماہی گیروں کی رہائی کے طریقہ کار کو آزادبنانے کے اقدامات کے طریقہ کار پرگفتگو کی گئی تاکہ پہلے سے موجود رہائی کے مشکل اور تاخیری طریقہ کار کو تبدیل کیا جائے اور نادانستہ طور پر سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ماہی گیروں کی رہائی میں مہینوں اور سالوں نہ لگ جائیں۔

ملاقات میں پاکستان اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے ماہی گیروں کی جلد رہائی کیلئے آزادانہ طریقہ کار کوموثر بنانے پر رضا مند ہو ئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ طور پرکسی بھی سمندری آفت سے نمٹنے پر بھی رضامند نظر آئے ۔

(جاری ہے)

پاکستان اور بھارت کے مابین یہ ہم آہنگی نئی دہلی میں بھارتی کوسٹ گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل راجندرا سنگھ اورپاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ ریئر ایڈمرل ذکاء الرحمان کی سربراہی میں ہونے والی دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ملاقات میں نظر آئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان دونوں ممالک کیکوسٹ گارڈز کے حکام کی ملاقات باقاعدہ طور پر ہوتی ہے تاہم یہ ملاقات گزشتہ سال نہیں ہو سکی تھی جس کہ وجوہات بھارت کی نام نہاد ’’سرجیکل اسٹرائیک ‘‘ اور پاکستان کی فوجی عدالت سے بھارتی جاسوس اور نیوی آفیسر کلبھوشن یادیو کو پھانسی کا حکم تھا جواپریل2017 میں سنایا گیاتھا۔دوستانہ ماحول میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے حکام نے باہمی طور پر طے کیا کہ بھارتی کوسٹ گارڈز اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اب باقاعدہ طور پر رابطے میں رہیں گے ،فوری طور پرسمندری حدود کی خلاف ورزیوں پر پہلے سے موجود ہاٹ لائن کے ذریعے ایک دوسرے کے ممالک کی کشتیوں کے پکڑے جانے پرفوری تبادلہ خیال کریں گے ۔

پاکستانی اور بھارتی ماہی گیر اکثرو بیشترزیادہ مچھلیوں کو پکڑنے کی لالچ میں بحری حدود کی خلاف ورزی کر بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ممالک میں قید ہو جاتے ہیں اور یہ المیہ اس لئے جنم لیتا ہے کہ بحیرہ عرب اور بحر ہند کی سمندری حدود اور گہرے سمندر میں حدود کا عدم تعین مشکلات کا باعث ہے ،اس پر مزید صورت حال اس لئے بھی خراب ہو جاتی ہے کہ ماہی گیروں کی کشتیوں میں کسی قسم کے جدید سائنسی آلات نصب نہیں ہوتے اس لئے پاکستان اور بھارت کے ماہی گیروں کی گرفتاری عمل میں آتی ہے اور انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔