دھان کی منظور شدہ باسمتی اقسام کاشت نہ کرنے سے پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے، ماہرین زراعت

بدھ مئی 18:57

فیصل آباد۔30 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ دھان کی فصل سے بہترین پیداوار کے حصول کیلئے جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے جبکہ دھان کی منظور شدہ باسمتی اقسام ہی کاشت کی جائیں ورنہ پیداوار میں کمی ہوسکتی ہے نیز اچھی پیداوار کے حصول کیلئے خالص، صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ بیج کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتایاکہ صوبہ پنجاب میں دھان کی فصل کی پنیری کی کاشت کے لیے کدو کا طریقہ ،خشک طریقہ یا راب کا طریقہ رائج ہے اس لئے کاشتکارکدو کے طریقہ میں بیج کو نمکین پانی میں بھگوئیں اور چار گیلن یا اٹھارہ لیٹر پانی میں 450گرام خوردنی نمک ڈال کر ہلائیں۔اس سے ناقص اور ہلکا بیج اوپر آ جائے گا جسے نتھارلیںاور بعد ازاں بیج کو پانی سے دھوکر صاف کرلیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ بیج سے نمک صاف کرنے کے بعد بیج کو 24گھنٹے پانی میں بھگو لیں اور انگوری مارنے کیلئے بیج سایہ دار جگہ پر چھوٹی چھوٹی ڈھیریوں یعنی 15سی20 کلو گرام فی ڈھیری رکھیں اور گیلی بوریوں سے ڈھانپ دیں۔انہوںنے کہاکہ زیادہ گرمی سے بچانے کیلئے بیج کو دن میں دو تین مرتبہ ہلائیں اور اس پر پانی کے چھینٹے ماریںتاکہ بیج خشک نہ ہو جائے۔اسی طرح بیج پر ڈھانپنے والی بوری کو بھی گیلا رکھاجائے۔

انہوںنے کہاکہ اس عمل سے بیج 36سے 48گھنٹے میں انگوری مارے گا۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار کھیت میں پنیری کاشت کرنے سے پہلے ایک دو دفعہ خشک ہل چلائیں اور پھر اسے پنیری بونے سے 3دن پہلے پانی سے بھر دیںنیز کھڑے پانی میں دوہراہل چلائیں اور سہاگہ دیں۔انہوںنے کہاکہ پنیری کیلئے کھیت تیار کرنے کے بعد اس کو دس دس مرلے کے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کر دیں۔

اب کھیت میںباسمتی اقسام کا تین پائو(750گرام)فی مر لہ کے حساب سے انگوری مارے ہوئے بیج کاچھٹہ دے کر اس پر روڑی، توڑی، پھک یا پرالی کی ایک انچ موٹی تہہ بکھیر دیںاور ہلکا پانی لگا دیں۔ انہوںنے کہاکہ چھٹہ دیتے وقت کھیت میں ایک تا ڈیڑھ انچ پانی کھڑا رکھیں اور پنیری کا قد بڑھنے پر پانی کی گہرائی بڑھا دیں لیکن پانی کی گہرائی تین انچ سے زیادہ نہ ہو۔