انسدادِ ہراسگی بِل آئندہ چند روز میں قانون کا درجہ اختیار کر لے گا

سعودی پارلیمنٹ سے منظور شدہ انسدادِ ہراسگی بل آئندہ چند روز میں قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ یہ معلومات سعودی وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور ال ترکی نے انسدادِ ہراسگی کے منظور شدہ بل کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہی

جمعہ جون 17:05

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ یکم جُون 2018ء) سعودی پارلیمنٹ سے منظور شدہ انسدادِ ہراسگی بل آئندہ چند روز میں قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ یہ معلومات سعودی وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور ال ترکی نے انسدادِ ہراسگی کے منظور شدہ بل کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس بل کے مسودے کی منظوری منگل کے روز سعودی فرماں روا شاہ سلیمان کی سربراہی میں وزارتی کونسل کے اجلاس کے دوران دی گئی ۔

اس سے ایک روز قبل سعودی شُوریٰ کونسل نے اسے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا تھا۔ اس قانون کے تحت جنسی ہراسگی ایک قابلِ سزا جُرم ہے جس کے ارتکاب کے صورت میں پانچ سال تک قید اور تین لاکھ سعودی جرمانے کی سزا سُنائی جا سکتی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق سرکاری گزٹ میں اس کی اشاعت کے بعد یہ بل چند روز میں قانون کی صورت میں نافذ ہو جائے گا۔

(جاری ہے)

منصور ال تُرکی کے مطابق اس قانون میں 18 سے کم عمر مُرتکب افراد کے لیے بھی قانونی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنسی ہراسگی کا نشانہ بننے والے یا ایسی کسی کارروائی کے عینی شاہد کو چاہیے کہ وہ اس واقعہ کی اطلاع متعلقہ حکام کو دے۔ جنسی ہراسگی کے واقعات عوامی مقامات‘ جائے ملازمت‘ سکولز‘ کیئر سنٹرز‘ یتیم خانوں‘ گھروں یا سوشل میڈیا پر رُونما ہو سکتے ہیں۔

جنسی ہراسگی کی کوئی بھی صورت چاہے وہ زبانی ہو یا عملی‘ جس میں کسی شخص کے جسم کو چھونے‘ پاکبازی پر الزام دھرنے‘ یا ٹیکنالوجی کے جدید وسائل کے ذریعے ہو‘ قابلِ سزا جُرم تصور کیا جائے گا۔ یہ قانون متاثرہ شخص کی پرائیویسی کو بھی تحفظ فراہم کرے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بے شمار لوگ ہیں جو ہراسگی کے واقعات کی اطلاع دینے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی نجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔

اس قانون کے تحت ہراسگی کا نشانہ بننے والے افراد کی شناخت خفیہ رکھنے کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ایموجیز اور سمائیلز کا استعمال کرنے میں بھی محتاط رہیں کیونکہ قانون بہت واضح ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ایسی بات یا عمل جو جنس سے متعلق ہو یا اس کا جنسی حوالہ بنتا ہو‘ ہراسگی کے زمرے میں شمار کی جائے گی۔