رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی خواتین کی عید کی تیاری میں بھی تیزی آگئی

جمعہ جون 23:01

رحیم یار خان۔یکم جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی خواتین کی عید کی تیاری میں بھی تیزی آگئی۔ افطاری کرتے ہی وہ بازاروں کا رخ ا ختیار کر لیتی ہیں۔اس لئے بازاروں میں ابھی سے خواتین کا رش لگ گیا ہے۔۔عید کی تیاری میں خاص طور پرخواتین اپنے کپڑوں کے بارے میں بہت پرجوش نظر آتی ہیں۔خوب سے خوب تر نظر آنے کی خواہش میں خواتین کی شاپنگ کا اہم حصہ عید کا جوڑا ہے جس کے لئے موسم کی مناسبت سے لان اورکاٹن کے ہلکے رنگوں کے ملبوسات کا انتخاب کیاجارہاہے۔

عید چونکہ گرمی کے موسم میں آرہی ہے، اس مناسبت سے لان، کاٹن، کھڈی کے ساتھ شیفون، جارجٹ کے دوپٹے والے سوتی ملبوسات خریدنے کی طرف خواتین کا رحجان کچھ زیادہ ہے۔ قمیضوں کی لمبائی چھوٹی پسند کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

بلوچی، کشمیری کڑھائی والے گلے فیشن میں اِن ہیں۔ لان کے کرتے اور ٹرائوزر کے ساتھ ان دنوں مارکیٹ میں چھوٹی قمیضوں کا فیشن بھی ہے جن کے ساتھ خواتین دوپٹے اور میچنگ ٹرائوزر بھی خرید رہی ہیں۔

عید کے کپڑوں کی تیاری کے حوالے سے خواتین کا کہنا ہے لباس شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔حنا کا کہنا ہے کہ جدید طرز کی کڑھائی والی قمیض اور شلوار آج کل فیشن میں ہیں اس لیے وہ اپنے لئے پنک کلر کی شلوار قمیض لے کر آئی ہیں۔منزہ کا کہنا ہے کہ عید کیلئے میں نے کرتے اور ٹرائوزر سوٹ کاانتخاب کیا ہے کیونکہ عید کے روز گھر سے باہر نکلنا اور دوست احباب سے ملنے جانا ہوتا ہے۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ عیدکے دنوں میں بھی گرمی کم ہونے کے کوئی آثار نہیں یہی وجہ ہے کہ عیدالفطر کیلئے بھاری بھرکم کام والے کپڑوں کے بجائے ہلکے رنگ کے لان اور کاٹن کے کپڑوں کا انتخاب کیاہے۔ڈیزائنر ارم نے بتایا کہ اس بار موسم کے اعتبار سے پنک اورسفید رنگ بھی بہت پسندکیاجارہاہے۔ دریں اثنا درزیوں نے عید کے کپڑوں کی سلائی میں اضافہ کر دیا ہے،خواتین کا کہنا ہے کہ درزیوں کے نخرے آسمانوں پر پہنچ گئے ہیں، سادہ شلوار قمیض کی سلائی 500سے 800روپے تک پہنچ گئی ہے،ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث کپڑا لے کر سلوانا مشکل ہوگیا ہے،پہلے کپڑے کے دکاندارکھال اتارتیہیں پھر رہی سہی کسر درزی پوری کر دیتے ہیں۔