پاکستان خوردنی تیل کی درآمد پرسالانہ 285 ارب روپے خرچ کرتا ہے

پنجاب میں 50 ہزار ایکڑ رقبہ پر کینولہ، 2 لاکھ ایکڑ رقبہ پر سورج مکھی کی کاشت کا ہدف مکمل کیا گیا

ہفتہ جون 15:11

پاکستان خوردنی تیل کی درآمد پرسالانہ 285 ارب روپے خرچ کرتا ہے
راولپنڈی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں خادم پنجاب کسان پیکج کے تحت 50 ہزار ایکڑ رقبہ پر کینولہ جبکہ 2 لاکھ ایکڑ رقبہ پر سورج مکھی کی کاشت کا ہدف حاصل کیا گیا ۔زرعی ماہرین نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی ملکی آبادی کی وجہ سے خوردنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنا ایک چیلنج ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر تقریباً 285 ارب روپے کا قیمتی زرمبادلہ خرچ کرتا ہے۔اس وقت ہم اپنی ضروریات کا صرف 14 فیصد خوردنی تیل خود پیدا کرتے ہیں جبکہ 86 فیصد ہمیں درآمد کرنا پڑتا ہے ۔قومی خبر ایجنسی کو دستیاب اعدادوشمار کے مطابق سورج مکھی کی کاشت کیلئے کل ہدف کا تقریباً90فیصد یعنی 1لاکھ78ہزار ایکڑ صرف جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنز کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔ خادم پنجاب کسان پیکیج کے تحت تیلدار اجناس(سورج مکھی اور کینولہ) کی کاشت پر بذریعہ وائوچرز 5 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی فراہم کی گئی ۔ رجسٹرڈ کسانوں کوسورج مکھی کی کاشت پر 10 ایکڑ تک سبسڈی فراہم کی گئی ۔