وسیم اکرم اور رمیز راجہ کے بعد مکی آرتھر بھی لیڈز ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے کا دفاع میں میدان میں آگئے

نگلے کی پچ پر نظم وضبط کے ساتھ بیٹنگ کی ضرورت ہے ،ْجوز بٹلر کے ڈراپ کیچ نے ہماری مشکلات بڑھائی ہیں ،ْ مکی آرتھر

اتوار جون 13:00

لیڈز (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) سابق کپتانوں وسیم اکرم اور رمیز راجا کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی لیڈز ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے کا دفاع میں میدان میں آگئے ۔ایک انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ انگلینڈ میں ہونے والی ٹیسٹ کرکٹ نئی گیند کی کرکٹ ہے ،ْ وہ ٹیم کامیاب ہوجاتی ہے جو نئی گیند کے ابتدائی 40 اوورز کو اچھا کھیلتی ہے۔

مکی آرتھر نے کہا کہ ہم نے پہلے دن خراب بیٹنگ کی لیکن ابھی میچ سے باہر نہیں ہوئے ہیں، تیسرے دن انگلینڈ کو جلد آئوٹ کرنے کی کوشش کریں گے ،ْہمیں دوسری اننگز میں بیٹنگ میں لارڈز والا ڈسپلن دکھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہیڈنگلے کی پچ پر نظم وضبط کے ساتھ بیٹنگ کی ضرورت ہے مکی آرتھر نے کہا کہ لیڈز کی پچ پر پہلا سیشن گزار کر بڑا اسکور بنایا جاسکتا تھا لیکن ابھی میچ ختم نہیں ہوا ہے پاکستان ٹیم اب بھی میچ میں موجود ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم نے جو پلاننگ کی تھی اس کے مطابق ہمیں اندازہ تھا کہ انگلینڈ 120 رنز کی برتری حاصل کرسکتا ہے لیکن جوز بٹلر کے ڈراپ کیچ نے ہماری مشکلات بڑھائی ہیں۔مکی آرتھر نے کہا کہ ہمارے بولروں نے پہلی اننگز میں بہت زیادہ رنز دے دیئے ہیں جس سے انگلینڈ بڑی برتری کی جانب بڑھ رہا ہے کوشش کریں گے انگلینڈ کو تیسرے دن جلد ا?ؤٹ کریں۔مکی آرتھر نے کہا کہ میں شاداب خان کی بولنگ کارکردگی سے مایوس نہیں ہوں وہ سپر اسٹار بن رہا ہے ایک نوجوان بولر کی حیثیت سے ان کی کارکردگی کی جس قدر تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاداب ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہورہا ہے لیکن دوسرے ٹیسٹ میں حسن علی کی بولنگ توقعات کے مطابق نہیں تھی۔حارث سہیل کی تعریف کرتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ وہ اس فارمیٹ میں نیا ہے لیکن وہ جیسے جیسے بیٹنگ کرے گا اس کے کھیل میں بہتری آئیگی۔