لیڈز ٹیسٹ میں شکست، کپتان سرفراز کی بیٹنگ پر سوالات اٹھنے لگے

سیریز میں اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ نہ کرنے پر مایوس ہوں ،ْسرفراز احمد

پیر جون 13:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) انگلینڈ کیخلاف لیڈز ٹیسٹ اننگز اور 55 رنز سے ہارنے کے بعد کپتان سرفراز احمد کی کار کر دگی پر سوالات اٹھنے لگے ۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ 10 سال میں پاکستان اور جنوبی افریقہ ایسی ٹیمیں ہیں جو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوئیں اور سیریز نہیں ہاری۔انگلینڈ کے خلاف سیریز برابر ہونے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی بیٹنگ کارکردگی کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے ۔

اپنی کارکردگی کے بارے میں سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹنگ پرفارمنس سے مطمئن نہیں ہیں سرفراز نے کہا ہے کہ وہ سیریز میں اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ نہ کرنے پر مایوس ہیں۔سرفراز احمد نے تین اننگز میں صرف 31 رنز بنائے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور14 رنز تھا۔

(جاری ہے)

سیریز میں انہوں نے وکٹ کیپر کی حیثیت سے 10 کیچز پکڑے۔سرفراز احمد کے مطابق میں بیٹنگ کی ناکامی پر مایوس ہوں اور اس پر کام کررہا ہوں۔

سرفراز احمد کے مطابق لیڈز ٹیسٹ میں شکست کی وجہ بیٹنگ لائن میں نظم وضبط کا نہ ہونا تھا، دونوں اننگز میں ہم نے ڈسپلن کے ساتھ بیٹنگ نہیں کی، ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ اس لیے غلط ثابت ہوا کیوں کہ بیٹسمین ناکام رہے۔انہوں نے کہا کہ غلطیوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں اظہر علی ہمارا اہم پلیئر ہے ،ْوہ لارڈز کے بعد ناکام رہا لیکن اس کی صلاحیتوں پر مجھے کوئی شک نہیں ہے۔

سرفراز احمد نے کہا کہ حسن علی نے دوسرے ٹیسٹ میں بولنگ اچھی نہیں کی، اگر وہ کیچ لے لیتے تو صورتحال مختلف ہوتی، کیچ ڈراپ ہونا کھیل کا حصہ ہے، حسن غلطیوں سے سیکھ رہا ہے ،ْامید ہے کہ اس ٹیسٹ سے وہ اپنے کیریئر کو طول دے گا۔سرفراز احمد نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کو انگلینڈ میں جتنی کرکٹ ملی ہے اس ٹف کنڈیشن میں ہمارے نوجوانوں کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔