اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سید جنید اخلاق کا ادیب ، دانشور اور مترجم محمد عمر میمن کے انتقال پر گہرے دُکھ کا اظہار

پیر جون 16:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سید جنید اخلاق نے معروف ادیب ، دانشور اور مترجم محمد عمر میمن کے انتقال پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ محمد عمر میمن نے پاکستانی ادب کو تراجم کے ذریعے سے بین الاقوامی ادب میں متعارف کرانے اہم کردار ادا کیا۔انھوں نے انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی میں شاہکار ترجمے کیے اور ان کی وجہ سے دنیا میں اردو اس کے اہم ادیبوں کی پذیرائی اور شناخت ہوئی۔

وہ یونیورسٹی آف وسکانسن میڈیسن میں اڑتیس سال تک اردو اور اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر رہے اور عربی و فارسی کے کورسز بھی پڑھاتے رہے ۔ انھوں نے تدریس حیدرآباد ( سندھی) سے شروع کی بعد میں ہارورڈ اور یوسی ایل اے سے اعلی تعلیم حاصل کی اور وسکانسن سے وابستہ ہوگئے۔

(جاری ہے)

وہ علیگڑھ میں1939ء میں پیدا ہوئے۔ ان کاخاندان 1954ء میں پاکستان منتقل ہوگیا تھا۔

وہ 1964ء میں فلیرائٹ سکا لر شپ پر امریکہ گئے۔ پروفیسر میمن وسکانسن میڈیسن میںاپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے تھے اور کچھ عرصے سے علیل تھے۔ چیئرمین اکادمی نے پشتو زبان کے معروف شاعر ،ادیب اور دانشور پروفیسر داور خان داؤدکے انتقال پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ مرحوم پشتو ادب کے اہم لکھاریوں میں شامل تھے۔ انھوں نے بیس کتابیں اور درجنوں مقالے تحریر کیے۔بلاشبہ پشتو ادب میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ سید جنید اخلاق، چیئرمین اکادمی اور ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعاکی ہے۔