رواں سال اور پچھلے چار سالوں کے دہشت گردی کے واقعات کا تقابلی جائیزہ رپورٹ

پیر جون 20:39

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) خیبر پختونخوا میں رواں سال کے پہلے پانچ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ رواں سال کے واقعات پچھلے چار سالوں کی مدت میں سب سے کم ہیں۔ رواں سال کے پہلے پانچ مہینوں میں دہشت گردی کی21 واقعات رونما ہوئے جبکہ سال 2014 میں52، سال 2015 میں108 ،سال 2016 میں 113 اور سال2017میں53 واقعات رونما ہوئے تھے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی نے سال 2014 میں77، 2015 میں228 ، 2016 میں 260، 2017 میں 152 اور رواں سال 49 مقدمات کا اندراج کرکے دہشت گردانہ واقعات میں استعمال ہونے والی 419 عدد بارودی مواد اور دیگر اشیاء وغیرہ برآمد کئے ہیں۔ اسی طرح بھتہ خوری کے واقعات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملی۔ سال 2014 کے دوران بھتہ خوری کے 58 واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ سال 2015 میں 113، 2016 میں 67، 2017میں 44 اور رواں سال کے تقابلی مدت میں 10 واقعات رونما ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ گذشتہ 4 سالوں کے مقابلے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بہت کم رونما ہوئے۔ سال 2014 میں ٹارگٹ کلنگ کے 8، 2015 میں 55 ، 2016 میں 77 ، 2017 میں 29 اور امسال کے دوران 15 واقعات رونما ہوئے۔اغواء برائے تاوان کے سال 2014 میں17، 2015 میں 26، 2016 میں 16، 2017 میں 7 اور سال 2018 میں 3 واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا صلاح الدین خان محسود نے محکمہ انسداد دہشت گردی کی کاوشوں اور کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار محکمہ انسداد دہشت گردی نہ صرف مقدمات کا اندراج کرتی ہے۔ بلکہ گرفتار شدہ ملزمان سے تفتیش بھی کررہی ہے۔ صوبے کے تمام ریجنل ہیڈ کوارٹرز میں سی ٹی ڈی کے 7پولیس اسٹیشن قائم کردیئے گئے ہیں۔ اور اب تک سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔اس سلسلے میں ماضی کے دہشت گردی کے کیسوں میں مطلوب بہت سے خطرناک عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں محکمہ انسداد دہشت گردی فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کررہی ہے جس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور دن رات کی کوششوں کی بدولت صوبے میں دہشت گردوں کا کمر توڑ کر رکھ دیا ہے اور صوبے میں روایتی امن کی بحالی کا سارا کریڈٹ اسی کو جاتاہے۔ پچھلے عشرے کے مقابلے میں آج کل بازاروں کی رونقیں بحال کرنے اور عوام کو اپنی معمولات زندگی پُر امن ماحول میں سرانجام دینا بھی محکمہ انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کا آئینہ دار ہے۔