سعودی کار شو رومز میں خواتین کی بھرتی شروع ہو گئی

بھرتیاں مستقبل میں خواتین خریداروں کی سہولت کے پیش نظر کی جا رہی ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 15:55

سعودی کار شو رومز میں خواتین کی بھرتی شروع ہو گئی
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 5 جُون 2018ء) 24 جُون 2018ء کو خواتین پر سے ڈرائیونگ کی عشروں پر محیط پابندی ختم ہو جائے اور اس دن خواتین بڑی تعداد میں سڑکوں پر ڈرائیونگ کرتی نظر آئیں گی۔ جس کے بعد خواتین میں اپنی کاریں خود منتخب کرنے کا جنون جنم لے گا۔ اسی جنون کو مدنظر رکھتے ہوئے کار کمپنیوں نے اپنے شو رومز میں خواتین گاہکوں کی رہنمائی کے لیے خواتین کی ہی بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ سعودی خواتین مردوں کی موجودگی میں اپنا فیصلہ کرنے میں کسی پریشانی کا شکار نہ ہوں اور خواتین ملازم کے ساتھ بِنا کسی شرم اور جھجک کے کھُل کے بات چیت کر سکیں۔

مملکت میں موٹر گاڑیوں کی فروخت کے پیشے سے جُڑی ایک مشہور کمپنی محمد یوسف ناگی موٹرز نے پچھلے تین مہینے سے خواتین ملازموں کی بھرتی کر کے انہیں ٹریننگ دی ہے اور انہیں سعودی عرب میں موجود اپنی مختلف برانچز میں تعینات کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

ان خواتین ملازموں کو کاروں کے حوالے سے تکنیکی معلومات دینے کے علاوہ اس کی مارکیٹنگ کے حوالے سے بھی تربیت دی گئی ہے۔

کمپنی کے ہیڈ آف مارکیٹنگ محمود مرزا نے کہا کہ یہ تربیت یافتہ خاتون ملازم اور ایگزیکٹوز نہ صرف خواتین بلکہ مرد خریداروں کو بھی ڈِیل کریں گی۔ ان کار شو رومز میں خواتین گاہکوں کے لیے مخصوص لاؤنجز بھی بنائے جا رہے ہیں۔ خواتین کو اعتماد کے ساتھ اپنی کار خود خریدنے کے حوالے سے ایک سلوگن ’’خواتین کی کار‘ اُن کی اپنی مرضی سے‘‘ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

خاتون ملازم ‘ خاتون گاہکوں کو کاروں کی حفاظتی خوبیوں‘ کارکردگی اور دیگر تکنیکی امور کے بارے میں آگاہ بھی کریں گی۔ محمود مرزا نے بتایا کہ جب سے خواتین پر سے ڈرائیونگ پر پابندی ہٹانے کا شاہی فرمان جاری ہوا ہے‘ تب سے کاروں کی خرید میں اضافہ ہو گیا ہے۔ خصوصاً پچھلے ماہ سے کاروں کو دیکھنے کے لیے آنے والی خواتین کی تعداد میں ڈھیر اضافہ ہوا ہے۔

وہ کار خریدنے کے حوالے سے بہت سنجیدہ نظر آتی ہیں۔ فی الحال وہ کاروں کی خرید کے حوالے سے اپنی تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔ کمپنی میں تین ماہ قبل بھرتی کی جانے والی خاتون ملازم اُحد الزہرانی نے کہا کہ وہ اس نئے تجربے کے حوالے سے بہت پُرجوش ہے۔ ’’میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ ہم خواتین کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ ہم نہ صرف ڈرائیونگ میں اپنی صلاحیت ظاہر کریں بلکہ آٹو انڈسٹری میں بھی اپنا آپ منوائیں۔

اس انڈسٹری میں مینجیریل‘ انتظامی اور مارکیٹنگ کے شعبے میں خواتین کے لیے آگے بڑھنے کے کئی امکانات موجود ہیں۔‘‘ اس کا مزید کہنا تھا۔ ایک اور خاتون ملازم سحر الشریف نے کہا کہ اُس نے ٹریننگ پروگرام کے ذریعے کاروں کے متعلق اپنی معلومات میں بے انتہا اضاف کیا ہے۔ خواتین کے ساتھ کار کی خرید کے حوالے سے ڈِیل کرنا ایک نیا تجربہ ہے۔‘‘ کار ڈیلروں کے مطابق خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد چھوٹی اور درمیانی سائز کی گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے