سری لنکن صدر پر تنقید ،

وزیراعظم سے وابستہ ٹی وی نیٹ ورک کی نشریات معطل

جمعرات جون 16:13

کولمبو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے کے خاندان کے ملکیتی ایک ٹیلی ویڑن نیٹ ورک کو ملک کے نشریاتی ریگولیٹر ادارے نے بند کردیا ہے۔ٹیل شان نیٹ ورک نے اپنی بندش سے دو ایک روز قبل ہی صدر میتھری پالا سری سینا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ وہ ملک کے میڈیا پر عاید کڑی پابندیوں کا خاتمہ کردیں گے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سری لنکا کا ٹیلی مواصلات ریگولیٹر صدر سری سینا کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ یہ ٹیلی ویڑن نیٹ ورک وکرما سنگھے کے بڑے بھائی کا ملکیتی ہے اور ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ اس کو لائسنس فیس کی عدم ادائی کی بنا پر بند کیا گیا ہے۔تاہم ٹیل شان نے اس الزام کی تردید کی ہے اور اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ذمے تمام واجبات ادا کرچکا ہے۔

(جاری ہے)

صدر سری سینا نے 2015ء میں وزیراعظم وکرما سنگھے کیساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی تھی لیکن ان کے اتحاد میں دراڑ آچکی ہے اور اب ٹیل شان نیٹ ورک کی بندش سے دونوں کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔وکرما سنگھے کی جماعت یونائیٹڈ نیشنل پارٹی نے پارلیمان میں صدر کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔۔سری لنکا کے میڈیا کے وزیر منگلہ سمارا ویرا نے پارلیمان میں ایک بیان میں کہا کہ وہ اس فیصلے کو قبول نہیں کرسکتے ۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں بھی اس فیصلے سے لاعلم رکھا گیا ہے۔اس ٹی وی کی بندش کو صدر سری سینا کی ملک میں سنسرشپ کی پہلی کارروائی قرار دیا جارہا ہے۔انھوں نے گذشتہ سال نومبر میں لندن سے تعلق رکھنے والی ایک خبری ویب گاہ ای نیوز تک سری لنکنوں کی رسائی بند کردی تھی۔ای نیوز نے صدر سری سینا کے دفتر میں ہونے والی بدعنوانیوں سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔تاہم واضح رہے کہ صدر سری سینا نے خود منتخب ہونے کے بعد انٹرنیٹ اور میڈیا پر عاید پابندیاں اور مختلف قدغنیں ختم کردی تھیں۔ان کے پیش رو مہندا راجا پکسے نے میڈیا پر یہ مختلف قدغنیں عاید کررکھی تھیں۔ ان کے دورِ حکومت میں سری لنکا میں سترہ صحافی اور میڈیا کے شعبے سے وابستہ ملازمین مختلف حملوں میں مارے گئے تھے۔