ایران کا سرخ لکیر ٹچ کرنا خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہو گا، فرانس

یورینیم افزودگی کا منصوبہ سرخ لکیر کے قریب تر ہے،ایران معاملات کو سنگین نہ بنائے، وزیر خارجہ

جمعرات جون 16:16

ْپیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں وائی ویس لی دریان نے کہا ہے کہ ایران کا یورینیم افزودگی کا منصوبہ سرخ لکیر کے قریب تر ہے، سرخ لکیر کو ٹچ کرنا خطرے کی گھنٹی ہے ،،ایران ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کرے جس سے معاملات سنگین ہوں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا عالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتا ختم ہونے کی صورت میں یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کا اعلامیہ سرخ لکیر کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔

(جاری ہے)

ژاں وائی ویس لی دریان نے یورپ 1 ریڈیو سیگذشتہروز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرخ لکیر سے کھیلنا ہمیشہ ہی خطرناک رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کا منصوبہ ابھی زیرِ عمل ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی صدر عمانو ایل ماکروں سے بات چیت کے ایک روز بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔ نیتن یاہو نے فرانس پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کی علاقائی جارحیت پر توجہ مرکوز کرے اور اس سے جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہہ دے لیکن وہ اپنی اس گل افشانی گفتار سے فرانس کو ایران سے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔