اردن ،ٹیکس کا قانون واپس لینے کا مطالبہ پوراکرنے کے وعدے پر مظاہرے ختم

نامزد وزیراعظم نے پارلیمنٹ اور انجمنوں کی کونسل کیساتھ ملاقات کے بعد اس مطالبے کو پورا کرنے کا عزم کیا ہے

جمعہ جون 12:30

عًمّان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) اردن میں جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ دارالحکومت عمّان میں عوام کی جانب سے جاری احتجاجی سرگرمیاں اختتام پذیر ہو گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق احتجاجی سلسلے کا اختتام پورے ایک ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران مظاہروں میں ٹیکس کا قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

نامزد وزیراعظم عمر الرزاز نے پارلیمنٹ اور انجمنوں کی کونسل کے ساتھ ملاقات کے بعد اس مطالبے کو پورا کرنے کا عزم کیا ہے۔اپنی نامزدگی کے بعد پہلی مرتبہ نمودار ہونے پر الرزاز کا کہنا تھا کہ وہ اردن میں اپوزیشن کی بات کو کھلے دل کے ساتھ سنیں گے۔الرزاز کا یہ موقف پارلیمنٹ کے اسپیکر عاطف طراونہ کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

(جاری ہے)

طراونہ نے الرزاز سے سفارش کی کہ وہ ٹیکس کے قانون میں نئی تبدیلوں کو منسوخ کر دیں۔

اسپیکر نے یہ بھی بتایا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت ان تبدیلیوں کو مسترد کرتی ہے۔الرزاز نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری مشاورت کے سلسلے میں پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اسپیکروں سے ملاقات کی تھی۔ وہ ٹیکس کے قانون کو زیر بحث لانے کے لیے پیشہ ورانہ انجمنوں کے رہ نماؤں سے بھی ملے۔یہ مشاورتیں اور ملاقاتیں اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم کی ہدایات پر ہوئیں جنہوں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ تمام سیاسی قوتوں ، پیشہ ورانہ انجمنوں اور پارلیمنٹ کے ساتھ جامع بات چیت کرے۔

متعلقہ عنوان :