سلامتی کونسل نے انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث چھ افراد پر عالمی پابندیاں عائد کردیں

نام بلیک لسٹ میں شامل،پابندیوںکا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا،عالمی ادارے کا بیان

ہفتہ جون 14:11

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسانوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے وابستہ چھ چیدہ افراد پر عالمی پابندیاں نافذ کر دی ہیں، یہ نیٹ ورک لیبیا میں متحرک ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سلامتی کونسل کی جانب سے انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف عالمی پابندیوں کے نفاذ کا یہ پہلا موقع ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا نفاذ تب ہوا، جب ہالینڈ کی جانب سے پیش کردہ مسودے پر روس نے اپنے تحفظات ختم کر دیے۔ اس طرح چھ افراد کے ناموں کو اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق بلیک لسٹ میں داخل کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان افراد پر پابندیوں کا نفاذ فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔۔اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نِکی ہیلی کے مطابق لیبیا میں تارکین وطن کو غلام بنا کر فروخت کرنا ہم سب کے ضمیر کے لیے ایک دھچکا ہے۔

(جاری ہے)

سکیورٹی کونسل نے اس پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ لگنے والی پابندیاں ایک مضبوط اشارہ ہوں گی کہ بین الاقوامی برادری انسانوں کی ٹریفکنگ اور اسمگلنگ میں ملوث افراد کا احتساب ضرور کرے گی۔ ہماری دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہو گی، جہاں انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی اس انداز سے خلاف ورزی کی جا سکے گی۔عالمی پابندیوں کے تحت یہ افراد دنیا میں کسی بھی ملک کا سفر نہیں کر سکیں گے، جب کہ ان کے تمام اثاثے منجمد ہو جائیں گے۔

ان پابندیوں میں دو افراد کا تعلق ایریٹریا اور چار کا تعلق لیبیا سے ہے۔ کہا گیا ہیکہ اریٹریا سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد اس نیٹ ورک کے سرغنہ تھے، جب کہ ان پابندیوں کی زد میں لیبیا کی کوسٹ گارڈ کے ایک علاقائی یونٹ کا سربراہ بھی شامل ہے۔