ْانکم ٹیکس ایمنسٹی کے مطابق منتخب کیس انکوائری سے مستثنیٰ قرار دیئے جائیں ،ْ محمد نوید ملک

ہفتہ جون 15:02

ْانکم ٹیکس ایمنسٹی کے مطابق منتخب کیس انکوائری سے مستثنیٰ قرار دیئے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر محمد نوید ملک نے کہا کہ بجٹ 2018-19میں چھوٹے تاجروں کو 12لاکھ روپے تک کی انکم پر ٹیکس سے چھوٹ دی گئی ہے جس کی وجہ سے آئندہ تقریبا 80فیصد چھوٹے ٹیکس دہندگان ٹیکس کی حد سے نیچے چلے جائیں گے جبکہ ایف بی آر نے قرعہ اندازی کے ذریعے چھوٹے تاجروں کو انکوائری کیلئے منتخب کیا ہے حالانکہ آئندہ برس ان تاجروں کو استثنیٰ حاصل ہو جائے گا۔

انہوں نے چیئرمین ایف بی آر سے اپیل کی کہ انکوائری میں منتخب شدہ چھوٹے تاجروںکے انکم ٹیکس ریٹرن کو قبول کر لیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن جی تھرٹین کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے ایسوسی ایشن کے صدر عابد خان اور سیکرٹری جنرل رانا الطاف حسین کی قیادت میں چیمبر کا دورہ کیا۔

(جاری ہے)

چیمبر کے نائب صدر نثار مرزا، افتخار سیٹھی، خالد چوہدری اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

محمد نوید ملک نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس کے معاملہ میں چھوٹے تاجر سخت پریشان تھے کیونکہ ان کیلئے حساب کتاب کی تفصیلات رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سبکدوش ہونے والی حکومت نے پہلے ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی جس کو بعد ازاں منی بل میں شامل کر لیا گیا جس کی وجہ سے چھوٹے دکاندار اور تاجروں کو آئندہ ریٹرن میں 12لاکھ روپے تک کی انکم پر ٹیکس سے چھوٹ مل جائے گی۔ لیکن موجودہ منتخب شدہ کیسز میں ان کو پریشان کرنا درست نہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر سے اپیل کی کہ وہ اس صورت حال پر نظر ثانی کریں اور منتخب شدہ انکم ٹیکس کیسز میں چھوٹے تاجروں کے ریٹرن کو من و عن تسلیم کرنے کے احکامات جاری کریں۔