مکہ اجلاس میں اردنی فرمانروا اپنے ولی عہد کے ہمراہ شرکت کریں گے

امید ہے خلیجی ممالک کی طرف سے امداد ملک کو موجود اقتصادی بحران سے نکالنے میں مدد گار ثابت ہوگی،اردنی حکام

اتوار جون 12:30

عمان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) اردن کے حکام نے کہا ہے کہ اردن کے حالیہ بحران کے حل کے لیے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی دعوت پر بلائے گئے چار ملکی اجلاس میں اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اور ان کے ولی عہد دونوں شرکت کریں گے۔عرب ٹی وی کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے گذشتہ روز متحدہ عرب امارات اور کویت کی قیادت سے اردن میں جاری اقتصادی بحران اور اس کے نتیجے میں ملک میں عوامی احتجاج کے بارے میں مکہ معظمہ میں اہم اجلاس کا اعلان کیا تھا۔

(جاری ہے)

اس اجلاس میں اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اور ان کے ولی عہد شریک ہوں گے۔ شاہ عبداللہ دوم نے اس اجلاس کو سعودی عرب ،اردن کے باہمی تعلقات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ادھر اسی سیاق میں اردنی پارلیمنٹ کے اسپیکر عاطف الطراونہ نے کہا کہ سعودی عرب اور اردن کے درمیان تاریخی اور مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اردن میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران پر سعودی عرب فوری حرکت میں آگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ خلیجی ممالک کی طرف سے امداد ملک کو موجود اقتصادی بحران سینکالنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔