چین اور قزاقستان کے درمیان حل طلب مسائل موجود نہیں

دونوں ممالک کے مابین بااعتماد مذاکرات کا سلسلہ قائم ہے،صدر نور سلطان نذر بائیوف

پیر جون 13:01

آستانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) قزاقستان کے صدر نورسلطان نذر بائیوف نے کہا ہے کہ چین اور قزاقستان کے درمیان بااعتماد مذاکرات کا سلسلہ قائم ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب مسائل موجود نہیں ہیں،دونوں ملکوں کے درمیان 51منصوبوں پر معاہدے ہو چکے ہیں دونوںممالک ایک صنعتی جدیدیت پروگرام پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اس سلسلے میں 1200سرمایہ کار کمپنیوں نے ایک فریم ورک تشکیل دیا ہے اس کا مقصد ایک دوسری متبادل معیشت قائم کرنا کا جس کا انحصار خام مال پر نہ ہو انہوں نے کہا کہ قزاقستان چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے لیے کام کر رہا ہے جس کی بنیاد دوطرفہ فوائد کے اصولوں پر مبنی ہے اس طرح دوطرفہ تعلقات عام امور اور ترجیہات کی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں تاکہ قزاقستان کی معیشت بھی ترقی کریں اس میں صعنتی اور جدیدیت کے منصوبے شامل ہیں جن میں کیمیکل انڈسٹری،کانکی،انجینئرنگ،توانائی ،زرعی صنعتی کمپیلکس اور معیشت کے دیگر شعبے شامل ہیں ، ان منصوبوں کی کامیابی سے ہماری پیداوار برآمدی معیشت کی طرف بڑھ جائیئگی جس سے ہمیں قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو گا۔

متعلقہ عنوان :