وزیراعظم کی زیر صدارت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد بارے جائزہ اجلاس

فاٹا انضمام بارے رکاوٹوں کے خاتمے ، عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کیلئے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،ایجنسیاں اور فرنٹیئر رینجز خیبرپختونخوا کے اضلاع اور سب ڈویژنز میں تبدیل پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹیکل کے عہدے تبدیل ، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر بنا دیئے گئے، تمام ٹیکسوں، لیوی اور راہداری کا سلسلہ بند کر دیا گیا چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی فاٹا اصلاحات عملدرآمد بارے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ فاٹا کے عوام کو تحفظ کا احساس دلانے کیلئے علاقے کا خیبرپختونخوا میں انضمام کا عمل جلد مکمل کیا جائے ، جسٹس (ر) ناصر الملک

پیر جون 17:28

وزیراعظم کی زیر صدارت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد بارے جائزہ اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے قبائلی علاقہ جات ((فاٹا)) کے عوام کو احساس تحفظ فراہم کرنے کیلئے انضمام کے عمل کو تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالہ سے رکاوٹوں و مشکلات کے خاتمہ کی حکمت عملی وضع کرنے اور اس عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کیلئے وفاقی وزیر قانون،، انصاف و پارلیمانی امور کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ۔

پیر کو نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر سیّد علی ظفر، وزیراعظم کے سیکرٹری، سیکرٹری سیفران، خزانہ اور منصوبہ بندی ڈویژن کے سیکرٹریز، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا،، اے سی ایس فاٹا اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی اور فاٹا انضمام کے حوالہ سے پارلیمان سے حال ہی میں منظور ہونے والی آئینی ترمیم کے عملی اطلاق کے حوالہ سے مختلف انتظامی، قانونی اور مالیاتی ایشوز کی نشاندہی کی جو فاٹا کے انضمام کے عمل کو احسن انداز میں عملی بنانے کیلئے فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

اب تک کئے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ ایجنسیوں اور فرنٹیئر رینجز کو اب خیبرپختونخوا کے اضلاع اور سب ڈویژنز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹیکل کے عہدے تبدیل کرکے اب ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر بنا دیئے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایجنسی ڈویلپمنٹ فنڈ کے خاتمہ کے بعد تمام ٹیکسوں، لیوی اور راہداری کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ قبائلی اضلاع میں عدلیہ، پولیس،، استغاثہ اور جیل سروس شروع کرنے کیلئے منصوبوں کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ بورڈ آف ریونیو کے ممبر نے اجلاس کے شرکاء کو آئندہ پانچ سالوں کیلئے سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کو ٹیکس استثنیٰ اور دیگر مالیاتی ترغیبات کے بارے میں بریفنگ دی۔ سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کے شرکاء کو انضمام کے عمل کو احسن طریقہ سے انجام دینے اور علاقہ کی ترقی کیلئے مالی وسائل مختص کرنے کے ضمن میں بریفنگ دی۔

وزیراعظم ناصر الملک نے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کا خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام ایک تاریخی پیشرفت ہے جس کے فاٹا کے عوام کی زندگیوں پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے اور یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے اس سلسلہ میں تمام ضروری انتظامی، قانونی اور مالیاتی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون،، انصاف و پارلیمانی امور کی چیئرمین شپ میں ایک کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

یہ کمیٹی فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے ضمن میں رکاوٹوں اور مشکلات کے خاتمہ کیلئے حکمت عملی وضع کرنے اور اس عمل کو احسن انداز میں مکمل کرنے کیلئے کام کرے گی۔ کمیٹی میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد اعظم خان، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا،، سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا،، اے سی ایس فاٹا اور خزانہ، ریونیو و منصوبہ ڈویژن کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو اپنا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا عمل جلد مکمل کیا جائے تاکہ سابق فاٹا کے عوام کو تحفظ کا احساس ہو سکے۔