لیبیامیں قذافی دور کے متعدد انٹیلی جنس افسر جیل سے رہا

سابق رجیم کے عہدیدار اور سیاسی رہ نماؤں کو خرابی صحت کی بناء پر رہا کیا گیا ،استغاثہ

منگل جون 14:12

طرابلس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت انصاف نے سابق مقتول لیڈر معمر قذافی دور کے متعدد عہدیداروں سمیت بعض سیاسی قیدیوں کو عارضی طورپر جیلوں سے رہا کردیاگیا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کے تحقیقات سے متعلق ڈائریکٹر نے بتایاکہ سابق رجیم کے عہدیدار اور سیاسی رہ نماؤں کو خرابی صحت کی بناء پر رہا کیا گیا ہے۔

وزارت قانون وانصاف کے زیراہتمام قیدیوں کی رہائی کے امورکی نگران کمیٹی نے بعض قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی۔ ان میں مقتول معمر قذافی کے دور میں انٹیلی جنس سے وابستہ بعض عہدیدار بھی شامل ہیں۔رہائی پانے والوں میں قذافی دور کے بیرون ملک انٹیلی جنس افسر ابو زید دوردہ، سابق ملٹری انٹیلی جنس افسر عبدالحمید اوحیدا عمار، سابق پائلٹ جبریل الکادیکی، جمال الشاھد اور دیگر عہدیدار شامل ہیں۔

(جاری ہے)

پراسیکیوٹر جنرل کے تفتیشی امور کے ڈائریکٹرصدیق الصور نے ایک بیان میں بتایا کہ طویل عرصے سے حراست میں رہنے کے باعث ان قیدیوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ انہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا ضروری تھا تاہم عارضی طورپر انہیں جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔رہا کئے گئے سابق انٹیلی جنس حکام پر سنہ 2011ء میں معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوان :