بہاولنگر ‘صحرا میں راستہ بھٹکنے‘ گرمی اور بھوک سے نڈھال ہوکر 3 کمسن بہنیں موت کی آغوش میں چلی گئیں

ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی اور97 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والا ریت کا طوفان بچیوں کیلئے قیامت ثابت ہوا‘ المناک موت پر سوگ کا سماں‘ تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا

پیر جون 14:00

بہاولنگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) بہاولنگر میں تین کمسن بہنوں کی المناک موت پر سوگ کا سماں ہے۔ تینوں بہنیں چولستان کے صحرا میں ماں سے بچھڑ گئیں تھیں۔ راستہ بھٹکنے کی وجہ سے وہ صحرا کی گرمی اور بھوک سے نڈھال ہوکر موت کی آغوش میں چلی گئیں۔نو سالہ ثریا، سات سالہ فاطمہ اور پانچ سالہ اللہ معافی تین روز پہلے ریت کے شدید طوفان کی وجہ سے ماں سے بچھڑ گئی تھیں۔

بچیاں لق و دق صحرا میں راستہ بھٹک گئیں۔

(جاری ہے)

45 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی اور97 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والا ریت کا طوفان بچیوں کیلئے قیامت ثابت ہوا۔بچیوں کے اہلخانہ اور گاؤں والے انہیں دیوانہ وار صحرا میں ادھر اٴْدھرتلاش کرتے رہے۔دو دن اور دو راتیں گزر گئیں لیکن بچیاں نہ ملیں۔پھر اچانک ڈھونڈنے والوں کو صحرا کی ریت میں دبی ان کی ننھی لاشیں نظر آہی گئیں۔دو روز قبل سوشل میڈیا پر بچیوں کی تصاویر اور وڈیو نے غم کی فضا پیدا کردی تھی۔بہاولنگر میں اس سانحے پر سوگ کی فضا ہے اور بچیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ عنوان :