متحدہ نظام مصطفی محاذ کے تحت اہلسنت کی تنظیمات کا اہم اجلاس ،

الیکشن 2018پر تبادلہ خیال کیا گیا اہلسنت تنظیموں کے قائدین کے مقابلے میں کسی سنی امیدوار کو کھڑا نہیں کرینگے ،قائدین اہلسنت و سنی امیدواروں کی بھرپور حمایت کی جائے گی ، اجلاس میں فیصلہ

ہفتہ جون 17:03

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کی رہائشگاہ قادری ہائوس پر تنظیمات اہلسنت کا اجلاس جمعیت علماء ومشائخ کے صدر سید پیر غلامرضوانی شاہ جیلانی کی صدارت میں ہوا،اجلاد میں جمیعت علماء پاکستان ونظام مصطفی محاز کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر ،سربراہ پاکستان سنی تحریک ونائب چیئرمین نظام مصطفی محاذ محمد ثروت اعجاز قادری ، پیر سید مظفر شاہ ،نظام مصطفی پارٹی کے عثمان خان نوری ،الحاج محمد رفیع،تحریک لبیک اسلام کے غلام مرتضیٰ نورانی ،،پاکستان فلاح پارٹی کے سید احمد علی شاہ رضوی ،محمد علی شیخ،تنظیم السعید کراچی کے کاشف سعید سمیت دیگررہنمائوں عقیل انجم ،قاضی احمد نورانی ،فہیم الدین شیخ ،محمدطیب قادری ،آصف رضا قادری ودیگر نے شرکت کی ،اجلاس میں الیکشن 2018پر تبادلہ خیال کیا گیا ،اہلسنت کے امیدواروں کو ایوانوں تک پہنچانے کیلئے سیاسی حکمت عملی تیار کی گئی ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متحدہ نظام مصطفی محاذمیں شامل اہلسنت کی تنظیمات نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ اہلسنت تنظیموں کے قائدین کے مقابلے میں کسی سنی امیدوار کو کھڑا نہیں کرینگے ،قائدین اہلسنت و سنی امیدواروں کی بھرپور حمایت کی جائے گی ،تنظیمات اہلسنت کی جانب سے مشترکہ پیغام بذریعہ لیٹریچر عوام میںعام کرنا ہوگا ،اس موقع صاحبزادہ ابو الخیر زبیر کا کہنا تھا کہ اہلسنت کو کا اتحاد اور واضع حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ،اہلسنت کی تمام جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہیے،ملک کے عوام کو حکمرانوں نے کچھ نہیں دیا عوام بلا خوف اپنے ووٹ کا استعمال اپنے ضمیر کے مطابق کریں ،اس موقع پر محمدثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ اہلسنت کا کوئی بھی امیدوار اسمبلی میں پہنچنے کی پوزیشن میں ہے ہم سب کو مل کر اس کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ اسمبلی میں اہلسنت کے نمائندے پہنچ سکیں ،،الیکشن میں کھڑا ہونا ہمارا واضع پیغام ہے کہ مخالفین کو خالی میدان نہیں دینگے ،اتحاد ویکجہتی کو فروغ دینا ہوگا ،لادینی قوتیں سوشل میڈیا پر اہلسنت کو انتشار کرنے کی سازشوں میں مشغول ہیں ،ہمارا منشور وہ ہی ہے جو خلفاء راشدین نے بنایا تھا ،پیر سید مظفر شاہ کا اجلاس میں کہنا تھا کہ اہلسنت کے کھوئے ہوئے تشخص کی بحالی کیلئے ایک ہوکر کام کرنا ہوگا ،اکابرین پاکستان نے اسمبلیوں میں پہنچ کر ملک وقوم کے لئے کام کیا آج ہمیں عوام کی خدمت کو یقینی بنانے کیلئے آگے بڑھنا ہوگا، اس موقع پر نظام مصطفی پارٹی کے عثمان خان نوری کا کہنا تھا کہ اہلسنت کی تنظیمات کی ایک سیاسی کمیٹی بننی چاہیے تاکہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ باہمی مشاورت سے ہوسکے چند ایسی نشست فوکس کرنی چاہیے جس پر کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں ،تحریک لبیک اسلام کے رہنما غلام مرتضیٰ نورانی کا کہنا تھا کہ اہلسنت کے قائدین کا انتخابات میں حصہ لینا خوش آئند ہے مشرکہ لائحہ عمل اور پالیسی کو فوقیت دی جائے ،قائدین اہلسنت کے سامنے کسی بھی سنی جماعت کے امیدوار کو مقابلے میں نہیں ہونا چاہیے یہی اہلسنت کے عظیم ترمفاد میں اچھا عمل ہے ،اس موقع پر پاکستان فلاح پارٹی کے سید احمد علی رضوی نے کہا کہ اہلسنت کے امیدواروں کو یکجا ہوکر مخالفین سے انتخابات میں مقابلہ کرنا ہوگا ،ہماری واضع پالیسی ہے قائدین اہلسنت کے سامنے کسی نمائندے کو کھڑا نہیں کرینگے ،اس موقع پر السعید تنظیم کے رہنما محمد احمد سعیدی نے کہا کہ خوشی ہے اہلسنت کو متحد اور انتخابات میں مشترکہ پالیسی بنانے کیلئے اجلاس بلایا گیا ،اہلسنت کے امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں ،اجلاس میں رابطوں کو بڑھانے اور الیکشن کے سلسلے میں انتخابی مہم کو چلانے کیلئے حکمت عملی بھی تیار کی گئی۔