بجٹ2018-19میں ترجیحات صحت اور تعلیم ہی رکھی جائیں‘نگرا ن صوبائی وزیر خزانہ

عبوری حکومت کے دوران اخراجات کو مکمل طور پر کنٹرول میں رکھا جائے تاکہ خسارے پر قابو پایا جا سکے‘اجلاس سے خطاب

ہفتہ جون 19:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) بجٹ2018-19میں ترجیحات صحت اور تعلیم ہی رکھی جائیں، کسی ایسے شعبہ سے کٹوتی نہ کی جائے جس کا تعلق براہ راست طور پر عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی سے ہے ،عبوری حکومت کے دوران اخراجات کو مکمل طور پر کنٹرول میں رکھا جائے تاکہ خسارے پر قابو پایا جا سکے، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں سے متعلق عدالت کے حتمی فیصلہ کے بعد سروسز سے ٹیکس وصولیوں کا لائحہ عمل وضع کیا جائے گا،وفاق سے اپنے مکمل واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار نگران وزیر خزانہ پنجاب نے گزشتہ روز بجٹ کی تیاری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عبوری حکومت کا زیادہ تررُجحان عوامی مسائل کے حل پر ہے ۔

(جاری ہے)

سوشل سیکٹر کی بہتری کے لیے ایسے اُصول وضع کیے جائیں گے جنھیں آئندہ بھی نظر انداز نہ کیا جائے سکے۔ اجلاس میں سیکرٹری فنانس شیخ حامد، سپیشل سیکرٹری اخراجات زید بن مسعود،سپیشل سیکرٹری بجٹ سیف اللہ ڈوگر،ایڈیشنل فنانس سیکرٹری رانا عبید،ڈائریکٹر بجٹ خالد محمود اور ڈپٹی سیکرٹری ریسورسسز بلال ہاشم شریک تھے۔

سیکرٹری فنانس نے نگران وزیر خزانہ کو بتایاکہ پنجاب حکومت نے دیگر صوبوں کے برعکس اپنے دورانیہ کے پیش نظرکابینہ سے 30جون تک کا بجٹ منظور کروایا تھا۔آئین کے تحت عبوری حکومت مکمل یا جزوی بجٹ پیش کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ نئے مالی سال کے لیے وسائل اور اخراجات کا تخمینہ تیار کر کیا جا چکا ہے تاہم وفاق سے طے شدہ فنڈزکی عدم دستیابی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں سے متعلق عدالت عالیہ کے حالیہ احکامات سے وسائل کے متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔

صوبائی وزیر نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ گزشتہ دور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پر اُٹھنے والے اخراجات اور عبوری حکومت کے اخراجات کا موازنہ کریں تاکہ آئندہ حکومتی اخراجات سے بچت کا تخمینہ لگایا جا سکے ۔ غیر ضروری ادائیگیاں فی الوقت موخر کر دی جائیں ۔ صوبائی وزیر نے پنجاب ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ اُنھوں نے پی آر اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں سے متعلق عدالتی احکامات کی روشنی میں سیلز ٹیکس آن سروسز کی قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال کروائیں ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو آئندہ مالی سال کے تخمینوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :