ایڈ ہاک ازم کی بجائے مستقل ، طویل المدت پالیسیوں کی تشکیل نا گزیر ہے‘ کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرزایسوسی ایشن

پالیسیوں پر عملدرآمد ،نتائج کے حصول کیلئے ٹاسک فورس کا قیام ،ایسوسی ایشنز سے روابط کیلئے فوکل پرسنز کی تعیناتی کی جائے کارپٹ کی عالمی نمائش سے دنیا بھر میں پاکستان کا روشن چہرہ روشناس کرانے میں مدد ملے گی‘ چیئرمین لطیف ملک کی زیر صدارت اجلاس

اتوار جون 12:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈا یکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہاہے کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کئے بغیر معیشت کی مضبوطی خواب ہی رہے گا اس لئے اعلانات سے دوم قدم آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ،زیادہ پیداواری لاگت ،برآمد کنندگان کومطلوبہ سہولیات اور مراعات نہ ملنے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مقابلے کی دوڑ سے باہر ہیں ،ایڈ ہاک ازم کی بجائے مستقل اور طویل المدت پالیسیوں کی تشکیل نا گزیر ہے ۔

ان خیالات کا اظہارچیئرمین لطیف ملک نے اپنی زیر صدارت اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وائس چیئرمین قمر ضیاء ،کارپٹ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سعید خان، ممبر ایگزیکٹو ریاض احمد، سینئر ممبر ملک اکبر ، سابق چیئرمین میجر (ر) اختر نذیر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کارپٹ انڈسٹری کو درپیش مسائل ، ان کے حل اور خصوصاً رواں سال اکتوبر میں منعقد ہونے والی کارپٹ کی عالمی نمائش کی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ لیا گیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک برآمدکنندگان کو بے پناہ سہولیات اور مراعات فراہم کر رہے ہیں جس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں اس لئے ہمیں بھی کامیاب ممالک کے ماڈل کو سٹڈی کرناچاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ نئی آنے والی حکومت وزارتوںمیں متعلقہ تجربہ رکھنے والی شخصیات کو ذمہ داریاں سونپے ، پالیسیوں پر عملدرآمد اورنتائج کے حصول کیلئے ٹاسک فورس کا قیام اور ایسوسی ایشنز سے روابط کیلئے فوکل پرسنز کی تعیناتی کی جائے ۔

پالیسیاں تشکیل دیتے وقت اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام رواں سال اکتوبر میں منعقد ہونے والی کارپٹ کی عالمی نمائش میں غیر ملکی مندوبین کی کثیر تعداد شرکت کرے گی جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا روشن چہرہ روشناس کرانے میں مدد ملے گی ۔ درخواست ہے کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان سمیت تمام متعلقہ ادارے امسال بھی نمائش کی کامیابی کیلئے بھرپور معاونت فراہم کریں ۔