کپاس کی بہتر پیداوار کیلئے فصل کو رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رکھیں، محکمہ زراعت

پیر جون 14:18

فیصل آباد۔25 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2018ء) کپاس کے کاشتکار وں کو فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے فصل کو رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اورکہاگیاہے کہ کاشتکار اس ضمن میں کسی غفلت یاکوتاہی کامظاہرہ نہ کریں اور اگر کسی جگہ پر مذکورہ کیڑوں کے حملے کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی مشاورت سے مناسب زہروں کا سپرے یقینی بنائیں۔

محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہاکہ تھرپس کی مادہ نرم پتوں اور شاخوں پر گروہ کی شکل میں انڈے دیتی ہے جبکہ تھرپس کے بالغ اور بچے دونوں پتوں کو رگڑ کر رس چوستے ہیں جس سے پتوں کی نچلی سطح چاندی کی طرح سفید چمکدار ہو جاتی ہے اور کپاس کے چھوٹے پودوں کے پتے رس چوسنے کی وجہ سے چُڑ مُڑ ہو جاتے اور پیالہ نما شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ تھرپس کے تدارک کیلئے کسّی، کھرپہ، کسولہ یا ہل کی مدد سے گوڈی کریں تاکہ زیر زمین انڈوں سے بچے نکل کر تلف ہو جائیںنیز کاشتکار فصل کی ہلکی آبپاشی کریں اور تھرپس کے حملہ سے متاثرہ پودوں کی چھدرائی کر کے فالتو پودے نکال دیں۔

انہوںنے بتایاکہ مائٹس جوؤں کے بچے اور بالغ دونوں فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ جسامت چھوٹی ہونے کی وجہ سے ابتدائی حملہ کے وقت کاشتکار کو ان کی موجودگی کا پتہ نہیں چلتا اور شدید حملہ کی وجہ سے فصل تباہ ہوجاتی ہے اور حملہ شدہ پتے بہت چھوٹے رہ جاتے اور اوپر کو مڑنے سمیت سخت ہو کر بھربھرے ہو جاتے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ مائٹس کے تدارک کیلئے کاشتکار فصل پر خصوصی توجہ دیں اور متاثرہ پتے و پودے توڑ کر زمین میں دبا دیں۔

انہوںنے کہاکہ سفید مکھی کاٹن لیف کرل وائرس نامی بیماری کے پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس میں سفید مکھی اور اس کے بچے دونوں رس چوس کر کپاس کی فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے پودے کمزور ہو جاتے ہیں اورغنچوں، پھولوں اور پتوں کی نشوونما رک جاتی ہے۔انہوںنے بتایاکہ سفید مکھی رس چوسنے کے دوران اپنے جسم سے ایک میٹھا لیسدار مادہ خارج کرتی ہے جس سے پتوں پر سیاہ پھپھوندی اگ آتی ہے، پتے سیاہ پڑ جاتے ہیں ، ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے، پودے اپنی خوراک تیار نہیں کر سکتے اور کمزور ہو جاتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ کاشتکارسفید مکھی کے تدارک کیلئے کھیت کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں، فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکائوٹنگ کریں اور متاثرہ پودے چھدرائی کے وقت احتیاط سے تلف کر دیں۔انہوںنے کہاکہ ضرر رساں کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو جائے تو زرعی ماہرین کے مشورہ سے مناسب زہروں کا سپرے بھی کیاجائے۔

متعلقہ عنوان :