یہودی راہبوں اور اماموں کا سامیت دشمنی کے خلاف سائیکل مارچ

مارچ کا مقصد یہ باور کرانا تھا سامیت دشمنی اور اسلاموفوبیا کی جرمن معاشرے میں کوئی جگہ نہیں،شرکاء

منگل جون 12:20

ین این آئی) یہودی راہبوں اور مسلم اماموں نے جرمن شہر برلن میں یہود اور اسلام مخالف بڑھتے جذبات کے خلاف سائیکل مارچ کیا۔ اس سائیکل مارچ کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ سامیت دشمنی اور اسلاموفوبیا کی جرمن معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہودیوں اور مسلمانوں پر حملوں اور تشدد کے واقعات میں اضافے کے خلاف اس مظاہرے میں راہبوں اور اماموں نے مشترکہ طور پر مارچ کیا۔

یہ مارچ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب جرمنی میں قوم پرست جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی((اے ایف ڈی ) کی جانب سے تارکین وطن کے خلاف نہ صرف سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے بلکہ ابتداء میں یہ انتہائی غیر مقبول جماعت اب جرمنی کی تیسری سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔پچاس افراد جن میں زیادہ تر مسلم اور یہودی تھے، نے سامیت دشمنی اور مسلم مخالف جذبات سے وابستہ پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

راہبوں اور اماموں نے برلن کے ہولوکاسٹ میوزیم سے بیبل پلاٹس تک کے علاقے میں سائیکلیں چلائیں۔ واضح رہے کہ بیبل پلاٹس کے علاقے میں سن 1933 میں نازی دور میں بیس ہزار کتب نذر آتش کی گئی تھیں۔ اس مارچ میں مسیحیوں اور غیر مذہبی افراد سمیت برلن شہر کے سیاست دانوں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر برلن کے ایک امام اندر چیتن نے کہاکہ ہم، تمام اماموں اور راہبوں کو ایک مثال قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہبوں اور یہودی برادری کے دیگر ارکان کو ساتھ ملا کر اس مارچ سے ایک واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ مسلم برادری سامیت دشمنی کو برداشت نہیں کرے گی۔

متعلقہ عنوان :