سعودی عرب:غیر مُلکی ملازموں کے اہلِ خانہ کے لیے خوش خبری

حج فرمز میں عارضی بنیادوں پر ملازمت کی اجازت مِل گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جولائی 14:18

سعودی عرب:غیر مُلکی ملازموں کے اہلِ خانہ کے لیے خوش خبری
جدہ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جُولائی 2018) سعودی مملکت میں غیر مُلکیوں کے ساتھ رہائش پذیراہلِ خانہ حج سیزن کے دوران اجیر عارضی حج ملازمت پروگرام کے تحت رجسٹریشن کروا کر ملازمت کر سکتے ہیں۔ یہ پروگرام وزارتِ محنت و سماجی ترقی کی جانب سے شروع کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے برسرروزگار غیر مُلکیوں کو حج سیزن کے لیے کام کرنے سے قبل اپنے ایمپلائر کی اجازت لینا لازمی ہوگا۔

15 سال سے زائد عمر کے تمام سعودی اور غیر سعودی افراد اجیر نظام کے تحت عارضی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ اجیر نظام کے ذریعے ملازم حاصل کرنے والی کمپنیوں کو فی ملازم160 سعودی ریال فیس جمع کروانی ہو گی۔ اس نظام کے اجراء کا مقصد حج کے انتہائی مصروف سیزن کے دوران دیگر ممالک سے ملازموں کے حصول کو روکنا ہے۔

(جاری ہے)

مقامی ملازم اجیر سے فائدہ اُٹھانے کے اہل نہیں ہیں اور غیر مُلکی افراد سعودیوں کے لیے مخصوص ملازمتوں پر تعینات نہیں ہو سکتے۔

اس بات کا اظہار وزارتِ محنت اور سماجی ترقی کی ترجمان سارہ الردادی نے جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں حج اسٹیبلشمنٹس کے نمائندوں سے خطاب کے دوران کیا۔ اُن کے مطابق اجیر سسٹم حج اسٹیبلشمنٹ اور حاجیوں کو سفری اور کھانے پینے کی سہولتیں مہیا کرنے والی کمپنیوں دونوں کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی ملازموں کو بھی اجیر سسٹم میں لایا جائے کیونکہ اُن کی مملکت میں موجودگی کے باعث اُن کی خدمات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

جبکہ حج سیزن کے لیے 24 گھنٹے کی ہاٹ لائن کا قیام ضروری ہے۔ اس کے علاوہ حج کے دوران مکہ میں عارضی ملازموں کو داخلے کی سہولت دینے کے لیے تمام گورنمنٹ اداروں کو مشترکہ قواعد و ضوابط وضع کرنے چاہئیں۔ واضح رہے کہ اجیر ایک آن لائن نظام ہے جوملازمتوں کے حصول کے سلسلے میں آجروں اور ملازموں کے درمیان رابطے کا باعث ہے۔ ملازمت کے حصول کے خواہش مند افراد اپنی دستاویزات اس سسٹم پر پوسٹ کر تے ہیں جبکہ کمپنیوں کو اگر کسی ملازمت کے لیے اہل فرد کی ضرورت ہے تو وہ بھی اس نظام کے ذریعے عہدے کو مشتہر کرتی ہیں۔