موسمیاتی تغیرات کے اس دور میں بجلی پیدا کرنے کیلئے ایٹمی توانائی کا استعمال امید افزاء آپشن ہے،

ہم پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے فروغ کیلئے آئی اے ای اے کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہیں،پاکستان آئی اے ای اے کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کیلئے تیار ہے، چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن محمد نعیم کا ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای ای) کی 62 ویںسالانہ جنرل کانفرنس سے خطاب

منگل ستمبر 23:49

ویانا ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2018ء) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین محمد نعیم نے کہا ہے کہ موسمیاتی تغیرات کے اس دور میں بجلی پیدا کرنے کیلئے ایٹمی توانائی کا استعمال امید افزاء آپشن ہے، ہم پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے فروغ کیلئے آئی اے ای اے کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہیں،پاکستان آئی اے ای اے کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کیلئے تیار ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای ای) کی 62 ویںسالانہ جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی سماجی اقتصادی ترقی کیلئے وسیع صلاحیت رکھتی ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیرات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے رواں سال ہونے والی آئی اے ای اے کی سائنس فورم میں میزبانی کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تغیرات کے اس دور میں نیوکلیئر پاور امید افزاء آپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پانچ نیوکلیئر پاور پلانٹس فعال ہیں اور 1100 سو میگاواٹ کے دو نیوکلئیر پلانٹس زیر تعمیر ہیں۔ توقع ہے کہ 2030ء تک پاکستان نیوکلیئر پاور پلانٹس سے 8800 میگاواٹ اور 2050ء تک 40 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کرنے والا ملک بن جائے گا۔

پاکستان سول نیوکلیئر پاور پلانٹس کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معیار کے مطابق محفوظ بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول نیوکلیئر پاور پاکستان کی ضرورت ہے ہماری پائیدار معاشی اور صنعتی ترقی کیلئے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے یہ ہمارے لئے ناگزیر ہے۔ پاکستان بلاامتیاز سول نیوکلیئر تعاون اور ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم کی رکنیت تک رسائی کیلئے رکاوٹیں ہٹانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کر رہا ہے جس میں تربیت، نیوکلیئر سیفٹی سیکورٹی، میٹریل اکائونٹنگ ، سائبر سیکورٹی اور انسانی بھروسے کے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت 8 کینسر ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ دو زیر تعمیر ہیں۔

ان اسپتالوں میں ہر سال نو لاکھ مریضوں کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کیلئے آئی اے ای اے کے تعاون کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کے حالیہ دورہ پاکستان میں نیوکلیئر سیفٹی اور سیکورٹی سے متعلق پاکستان کے اقدامات پر ان کے مثبت بیان سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی اے ای اے کے ساتھ شراکت داری مزید مستحکم کرنے کیلئے تیار ہے اور دیگر ملکوں کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے آئی اے ای اے کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔