حضرت امام حسینؑ کی قربانی پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے، شہداء کربلا نے حق و صداقت اور اسلام کی سربلندی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اسلام کو نئی روح بخشی،

اسلام کے نام پر دوسروں کو نقصان پہنچانے والوں کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں گورنر پنجاب کی مجلس علماء پاکستان کے نمائندہ وفد اور مذہبی رہنمائوں سے ملاقات میں گفتگو چوہدری محمد سرور سے یورپین کنزرویٹو اینڈ ریفامسٹس گروپ آف پارلیمنٹیرین کے وفد کی بھی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

جمعرات ستمبر 19:23

حضرت امام حسینؑ کی قربانی پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے، شہداء کربلا ..
لاہور۔20 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2018ء) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ آج پوراعالمِ اسلام اپنے ماضی کی شاندار روایات اور عظمت و شوکت سے محروم نظر آتا ہے تو اُس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اسلام کے بنیادی نقطے اتحاد و ایمان سے نظریں چُرا رکھی ہیں اور اپنی عظیم روایات کو فروحی اختلافات اور فرقوں کی نظر کر رکھا ہے۔

وقت کا تقاضا اور محفوظ مستقبل کی کامیابی یہی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں یکسوئی اور اپنے رویوں میں برداشت پیدا کرتے ہوئے عالم اسلام اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنا اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے یہاں گورنر ہائوس لاہور میں تمام مکاتب فکر علماء پر مشتمل مجلس علماء پاکستان کے نمائدہ وفد اور مذہبی رہنمائوں سے ملاقات کرتے ہوئے کیا جنہوں نے مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں گورنر ہائوس لاہور میں ان سے ملاقات کی۔

(جاری ہے)

گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان دُنیا کی واحد اسلامی مملکت ہے جو نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی اور یہی نظریہ ہمارے دین اور ایمان کا حصہ ہے اور اس کا صحیح تشخص اُجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی قربانی پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کربلا نے حق و صداقت اور اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اسلام کو نئی روح بخشی۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم اس نبی ٌ کے پیروکار ہیں جنہوں نے ہمیشہ محبت، رواداری اور بھائی چارے کا دًرس دیا ہے، اسلام کے نام پر دوسروں کو نقصان پہنچانے والوں کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ ہمیں اپنے مسلک کو چھوڑو نہ اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ تمام انتظامی معاملات کو خود ذاتی طور پر مانیٹرنگ کررہا ہوں۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ اقلیتوں کے لئے بھی ایک محفوظ سرزمین ہے اور غیر مسلموں کو دی جانے والی مذہبی آزادی حقیقی معنوں میں اسلامی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ بعد ازاں، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پاکستان پُر اًمن ملک ہے جس نے اًمن کے لئے گراں قدر قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان یورپین یونین سمیت اپنے دوست ممالک سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں گورنر ہائوس لاہور میں وائس پریذیڈنٹ ای سی آر جرمنی ہنس اولف ہینکل کی قیادت میں آئے ہوئے یورپین کنزرویٹو اینڈ ریفامسٹس گروپ آف پارلیمنٹیرین کے چھ رُکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیئے بغیر ملکی معیشت کا استحکام ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ ملک کی نئی قیادت ملک میں سرمایہ کاری کا بہترین ماحول فراہم کرنے اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے مؤثر حکمت عملی پر گامزن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری بڑھنے سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیداہوں گے ۔گورنر نے کہا کہ مًیں نے اپنے پہلے دور میں جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حصول کے لئے بہت محنت کی لیکن بد قسمتی سے سابقہ حکومت اِس سے خاظر خواہ فائد حاصل نہیں کرسکی۔ انہوںنے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے اختیارات مرکزیت کی بجائے اقتدار کی نچلی سطح پرمنتقلی کو یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ مقامی نمائندے بہتر طریقے سے عوام کی خدمت کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صاف ستھری سیاست پر یقین رکھتی ہے اور اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر عوامی توقعات پر پورا اتریں گے۔اس موقع پر وفد نے یورپی منڈیوں میں جی ایس پی پلس سٹیٹس کا حصول پاکستان کے لئے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کردار قابل تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کے تجربات اور بالخصوص یورپین ممالک میں خصوصی تعلقات سے پاکستان کی معاشی ترقی میں بہتری آئی گی۔وفد نے کہا کہ اقتصادی شعبے کی بہتری کے لئے حکومتی کاوشیں قابل تعریف ہیں اور یورپی ملکوں میں جی ایس پی پلس سٹیٹس کا حصول انہی اقدامات کا نتیجہ ہے۔