واپڈا نے گولن گول پن بجلی پراجیکٹ کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے کا اہم سنگ میل عبور کر لیا، دنیا کے بلند ترین مقامات میں سے ایک پر ٹرانسمیشن لائن بچھا دی

پیر ستمبر 14:17

واپڈا نے گولن گول پن بجلی پراجیکٹ کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے کا اہم سنگ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے چترال کے گولن گول پن بجلی پراجیکٹ کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے کا اہم سنگ میل عبور کرلیا، واپڈا نے دنیا کے بلند ترین مقامات میں سے ایک پر ٹرانسمیشن لائن قائم کر دی ہے، چترال سے لوئر دیر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تیمر گرہ کے قریب 180 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب کا کام مکمل ہوگیا ہے۔

یہ ٹرانسمیشن لائن برفانی چوٹیوں بشمول لواری ٹاپ پر قائم کی گئی ہے، اس ٹرانسمیشن لائن میں 706 ٹرانسمیشن ٹاورز قائم ہیں جن میں سے 141 ٹاور 132 کلووولٹ اور 565 ٹاور 220 کلو وولٹ کے حامل ہیں۔ اس سے قبل پاکستان میں ایسے بلند ترین مقامات پر ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب نہیں کی گئی تھی۔ اس ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل سے گولن گول ہائیڈرو پراجیکٹ کو قومی گرڈ سے منسلک کردیا گیا ہے اور اب اس منصوبے سے قومی گرڈ کو آزمائشی بنیادوں پر بجلی کی فراہمی شروع ہوگئی ہے۔

(جاری ہے)

پراجیکٹ کے دوسرے یونٹ کو مروجہ معیاری طریقہ کار کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ قبل ازیں پہلے یونٹ سے ہی چترال اور ملحقہ علاقوں کو بجلی کی فراہمی شروع ہوچکی ہے۔ اب تک منصوبے سے 33 ملین یونٹ بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔ منصوبے کا تیسرا اور چوتھا یونٹ بھی مکمل ہوچکا ہے اور اس کا باقاعدہ آغاز جلد کیا جائے گا۔ منصوبے سے 108 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو گی۔ منصوبے سے ہر سال قومی گرڈ کو مجموعی طور پر 436 ملین یونٹ بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ اس سے سالانہ بچت کا تخمینہ 3.7 ارب روپے لگایا گیا ہے۔