سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی سیف الرحمان کے فیکٹری گودام پر چھاپہ

چھاپے کے دوران گودام سے 21 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں برآمد ہوئیں۔ میڈیا رپورٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل ستمبر 11:16

سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی سیف الرحمان کے فیکٹری گودام ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور قومی احتساب بیورو کے سابق چئیرمین سیف الرحمان کے فیکٹری گودام پر چھاپہ مارا جس کے نتیجے میں 21 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں برآمد ہوئیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کسٹمزانٹیلی جنس نے کلرسیداں میں کارروائی کرتے ہوئے نوازشریف کے ساتھی سیف الرحمان کی ٹیکسٹائل ملزسے 21 گاڑیاں برآمد کر لیں۔

ڈی جی کسٹمز انٹیلی جنس شوکت علی کو نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کی اطلاع ملی جس پر راولپنڈی کے ڈائریکٹر عبدالوحید مروت کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی ۔ تشکیل دی جانے والی ٹیم نے قومی احتساب بیورو کے سابق چئیرمین سیف الرحمان کی ٹیکسٹائل فیکٹری کی عمارت پر چھاپے کی کارروائی کے لیے علاقہ مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل کئے۔

(جاری ہے)

کسٹم انٹیلی جنس نے کلرسیداں میں موجود مل پر چھاپہ مارا جہاں سے یہ گاڑیاں برآمد ہوئیں۔

ریڈ کوٹیکسٹائل ملز کافی عرصہ سے بند پڑی تھی۔ ڈی جی کسٹمزانٹیلی جنس شوکت علی کے حکم پرکارروائی کی گئی۔ برآمد کی جانے والی 21 لگژری گاڑیوں پرقطری سفارتخانے کی نمبرپلیٹس لگی ہوئی ہیں۔ ان گاڑیوں میں وی 8، وی 6 اور ویگو ڈالے شامل ہیں، ان گاڑیوں کو لکڑی کے باکس پر کھڑا کیا گیا ہے تاکہ ان کے ٹائرز خراب نہ ہوں۔ کسٹمزحکام نے متعلقہ افراد سے گاڑیوں کے کاغذات طلب کیے لیکن وہ فراہم نہ کرسکے اور نہ ہی گاڑیوں کی موجودگی کے بارے میں کوئی ٹھوس جواز پیش کرسکے جس کے بعد کسٹمز حکام نے قانونی کارروائِی مکمل کی اور نوٹس جاری کر دیئے۔

ذرائع کے مطابق برآمد کی جانے والی 21 نام کسٹم پیڈ گاڑیوں کے علاوہ بھی وہاں 50 سے زائد گاڑیاں موجود تھیں جنہیں چھاپے سے قبل ہی غائب کر دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلی جنس شوکت علی نے یہاں سے منتقل ہونے والی گاڑیوں کی ریکوری کیلئے پورے ملک میں اپنی ٹیموں کو الرٹ کردیا ہے۔ڈائریکٹر کسٹمز راولپنڈی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں دس سے چودہ سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے اور تمام گاڑِیوں کو ضبط کرلیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر قطری سفارتخانے نے گاڑیوں کے کاغذات فراہم کئے تو بھی کسٹمز ایکٹ کے تحت گاڑیوں کے غلط استعمال پر کارروائی ہوگی اور انہیں ضبط کر لیا جائے گا کیونکہ اگر گاڑیاں سفارتخانے کی ہیں تو انہیں پھر سفارتخانے میں موجود ہونا چاہئیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کہیں سفارتخانے کی آڑ میں اسمگل شدہ گاڑیاں منگوا کر اس طرح استعمال تو نہیں کی گئیں اور اس حوالے سے بھی سفارتخانے سے بھی جواب طلب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں گاڑیوں کو ضبط کر لیا جائے گا، صرف سفارتخانے کو سفارتی استثنٰی حاصل ہے۔ اس لئے کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا۔ کسٹم حکام کے مطابق گاڑیوں کی مالیت 25 کروڑ روپے ہے۔ واضح رہے کہ ریڈ کو ٹیکسٹائل ملزکا کیس پہلے ہی نیب میں چل رہا ہے۔