سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس،وکیل صفائی خواجہ حارث کی استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء کے بیان پر جرح مکمل،

احتساب عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو طلب کر لیا،سماعت جمعرات تک ملتوی

منگل ستمبر 23:26

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس،وکیل صفائی خواجہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کیخلاف دائر العزیزیہ ریفرنس میں تفتیشی آفسیر کو طلب کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ۔وکیل صفائی خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء کے بیان پر انیسویں روز جرح مکمل کر لی ۔منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے محمد نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت کی۔

دوران سماعت واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ حسین نواز نے کہا کہ 6.5 ملین پاؤنڈ سعودی عرب سے برطانیہ بھیجے گئے، حسین نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے کہا کہ 5 ملین پاؤنڈ 2006 میں واپس آ گئے، جے آئی ٹی نے ایسے کوئی شواہد اکھٹے نہیں کیے جو حسین نواز کے بیان کی تردید کریں،حسین نواز کے مطابق 5 ملین پاؤنڈ ہل میٹل میں سرمایہ کاری کے لئے واپس آئے۔

(جاری ہے)

واجد ضیاء نے کہا کہ حسین نواز نے اپنے بیان میں کمپنی کا نام ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ استعمال کیا ، یہ کہنا غلط ہے کہ جے آئی ٹی نے کسی ایجنڈے یا بد دیانتی کے تحت نواز شریف کو کیس میں پھنسانے کی کوشش کی یا سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ شواہد کے بغیر تھی۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ جے آئی ٹی نے ہل میٹل سے متعلق درست حقائق جاننے کی کوشس نہیں کی۔

دوران جرح جج محمد ارشد ملک نے بھی خواجہ حارث سے دلچسپ جملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اتنی طویل جرح کر لی ہے اب واجد ضیاء جرح کے عادی ہو گئے ہیں, جرح سے فارغ ہو کر واجد ضیاء تو کچھ دن سوچیں گے کہ وہ کیا کریں۔ ایک مصروفیت کا عادی ہو جانے کے بعد بندا کچھ دن ضرور سوچتا ہے کہ وہ کیا کری خواجہ حارث کی جرح مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو طلب کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔