سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کو بوتل بند پانی پر فی لیٹر ایک روپیہ ٹیکس عائد کرنے کی ہدایت کردی

”منرل واٹر“ کمپنیوں کے فروخت کیے جانے والے پانی کو جانچنے کیلئے کمیٹی قائم ‘ کمپنی سالانہ آمدنی 15 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے اور 30 سال سے پاکستان میں کام کر ر ہے ہیں . وکیل نیسلے پاکستان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل نومبر 15:34

سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کو بوتل بند پانی پر فی لیٹر ایک روپیہ ٹیکس ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 نومبر۔2018ء) سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بوتل بند پانی پر فی لیٹر ایک روپیہ ٹیکس عائد کرے، ساتھ ہی عدالت نے ”منرل واٹر“ کمپنیوں کے فروخت کیے جانے والے پانی کو جانچنے کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے. چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے زیر زمین پانی نکالنے سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران منرل واٹر کمپنی نیسلے کے نمائندے، ڈاکٹرز اور ماہرین پیش ہوئے.

سماعت کے دوران نیسلے کے نمائندے نے بتایا کہ کمپنی کی 15 کروڑ 80 لاکھ روپے ایک سال کی آمدن ہے اور 30 برسوں سے کمپنی ملک میں کام کر رہی ہے. اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سب سے زیادہ 11 سال سے کم عمر کے بچے گندے پانی کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں، قوم گڑھے کا پانی پی لے گی، آپ اپنے منافع کی پرواہ کریں قوم کی پرواہ چھوڑ دیں. چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قوم کے مسیحا ہیں آپ نہیں، اگر آپ کو ایک روپیہ فی لیٹر ادائیگی قبول نہیں ہے تو صنعت بند کرکے چلے جائیں، جس پر نمائندہ نیسلے نے کہا کہ پھانسی دے دیں لیکن یہ نہ کہیں کہ منافع کے لیے کہہ رہا ہوں،ہم 30 سال سے کمپنی چلا رہے ہیں، پوری دنیا کی لیبارٹری ہمارے پانی کو ٹیسٹ کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے وکیل میرے پاس سفارشات لے کر آتے رہتے ہیں، اربوں روپے کا پانی مفت استعمال کیا ہے کچھ تو واپس کریں، جس پر نمائندہ نیسلے نے کہا کہ آپ یا صنعت بند کرجائیں گے یا پھر مواقع دے کر جائیں گے.

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک بوتل پر کتنے پیسے کمائے ہیں؟بوتل والی کمپنیاں مفت میں اربوں روپے کماتی ہیں، کسی کے منافع کے لیے عوام کو پیاسا نہیں مرنے دوں گا. اس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ساتھ ہی ریمارکس دیے کہ ڈیڑھ لیٹر کی بوتل 50 روپے کی فروخت ہوتی ہے، جو پیسے اکھٹے ہوں گے پانی کی بہبود پر ہی خرچ ہوں گے. دوران سماعت نمائندہ نیسلے نے بتایا کہ پانی ابالتے ہیں تو کیلشیم ختم ہوجاتا ہے، 5 روپے منرل ڈالنے پر خرچ ہوتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں نے رپورٹ دیکھی ہے کوئی منرل نہیں ہے.

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اپنے ذاتی فائدے کے لیے پانی والی کمپنیوں نے پانی چوری کیا، کمیشن بنائیں گے کہ کتنا پانی چوری ہوا. اس دوران سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر احسن عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ جو بات کہوں گا وہ اصل میں قوم کی بات ہوگی. انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مسترد شدہ پانی کو تلف کرنا چاہیے، ہمارے پاس پانی نہیں ہے، آنے والی نسلیں ہم سے پانی کے بارے میں پوچھیں گی.

عدالت میں سائنسدان احسن نے بتایا کہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں زیر زمین پانی کو خشک کر رہی ہے جبکہ ان کے پاس پانی کے معیار کو جانچنے کے آلات ہی نہیں ہیں جبکہ پانی کو جانچنے کے لیے اسٹاف کو طریقہ کار ہی معلوم نہیں ہے، یہ کمپنیاں زیر زمین کو بھی خراب کر رہی ہیں. دوران سماعت ایک خاتون ماہر بھی پیش ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ وہ حیاتیات کی ماہر ہیں اور یہاں ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی سے منظوری لیے بغیر ہی پانی استعمال کیا جارہا ہے.

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اس معاملے کو درست کرنا ہے، رازق اللہ تعالیٰ ہے، 30 برس بعد آنے والی نسل کو پانی نہ ملا تو کیا جواب دیں گے، ہمت کریں فیکٹری بند کریں، میں دیکھتا ہوں کتنی دیر بند رکھ سکتے ہیں. دوران سماعت ڈی جی ماحولیات نے بتایا کہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں نے کسی ماحولیاتی کمپنی سے سرٹیفکیٹ نہیں لیا. چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجھے بتائیں بوتلوں والا پانی کیسے تیار کیا جاتا ہے، بوتل میں بند پانی کا معیار کیا ہے؟ جس پر احسن صدیقی نے بتایا کہ دریائے سندھ کے پانی سے بیکٹیریا ختم کردیں تو بوتل بند پانی سے ہزار گناہ بہتر ہے.

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کئی ممالک میں پیپسی، کوکا کولا بند ہوچکی ہیں، یہاں بند کیوں نہیں ہوسکتی، یہ بچوں کو بیمار کر ہے ہیں اور کہتے ہیں قوم کی خدمت کر رہے ہیں. عدالت نے ریمارکس دیے کہ برسوں سے یہ لوگ بغیر ادائیگی زیر زمین پانی نکال رہے ہیں، کمپنی مالکان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے. اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تمام صوبوں میں ایک روپے فی لیٹر پانی چارجز پر اتفاق رائے ہوا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام صوبوں نے بوتل بند فی لیٹر پانی پر ایک روپیہ ٹیکس لگایا جائے، سندھ نے کہا کہ مشروبات کا استثنیٰ ہوگا، اس معاملے کو بعد میں دیکھیں گے.

بعد ازاں عدالت نے ڈاکٹر احسن صدیقی اور ڈی جی ماحولیات تمام فیکٹریوں کا پانی جانچے اور 10 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی.