سپریم کورٹ میں پی آئی اے پائلٹس پنشن کیس کی سماعت

پائلٹس قومی ایئرلائن کے ملازم ہیں لیکن پی آئی اے کے سروس رولز میں پائلٹس کی پنشن کا ذکر موجود نہیں ‘چیف جسٹس جس حکم نامے کے تحت پنشن روکی گئی اس کا جائزہ لیں گے‘ جسٹس اعجازالحسن ڈائریکٹر فنانس پی آئی اے ریکارڈ سمیت طلب ۔۔سماعت 5 دسمبر تک ملتوی

جمعرات نومبر 16:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے پی آئی اے پائلٹس پنشن کیس میں پی آئی اے کے ڈائریکٹر فنانس کو پائلٹس کی پنشن کے تعین کے ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے ۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی مخصوص بنچ نے کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی آئی اے کے سروس رولز میں پائلٹس کی پنشن کا ذکر موجود نہیں ۔

بلاشبہ پائلٹس قومی ایئرلائن کے ملازم ہیں ۔ پائلٹس کا موقف ہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر وہ پنشن لینے کے اہل ہیں ۔ سالوں سروس کرنے کے بعد پائلٹس 8سے 33 ہزار روپے پنشن لے رہے ہیں ۔ درخواست گزار کے وکیل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ پائلٹس کو پنشن ٹرسٹ فنڈز سے دی جا رہی ہے ۔ اس وقت نہیں معلوم کہ ٹرسٹ فنڈ میں کتنی رقم موجود ہے ۔

(جاری ہے)

ا یک انتظامی آرڈر کے ذریعے پائلٹس کی پنشن کو منجمند کر دیا گیا ہے جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ٹرسٹ فنڈ میں پیسہ کم ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے پنشن کا حجم کتنا ہو وہ ہائی کورٹ خود طے کرے ۔

جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ جس انتظامی حکم نامے کے تحت پائلٹس کی پنشن روکی گئی اس کا جائزہ لیں گے ۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ٹرسٹ فنڈ میں اتنی رقم ہی نہ ہو تو تو پنشن کیسے بڑھائی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے پی آئی اے کے ڈائریکٹر فنانس کو آئندہ سماعت پر پنشن کے تمام ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے ۔ ۔