وفاقی حکومت کی گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات کیلئے کمیٹی قائم ‘ٹی او آرز بھی

عدالت کے دیئے گئے ایک ماہ کے وقت میں صرف کمیٹی اور ٹی او آرز ناقابل قبول ہیں‘حکومت کی بنائی گئی کمیٹی کے تمام ممبران کو طلب کر لیتے ہیں ‘چیف جسٹس قوانین میں تبدیلی کیلئے سفارشات کابینہ کے سامنے رکھی گئی ہیں ‘اٹارنی جنرل عالمی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے میں وفاقی حکومت کو وقت دینا چاہیے‘ عدالتی معاون اعتراز احسن عدالت کی کمیٹی کو 15دنوںمیں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت ۔۔۔ سماعت 30دسمبر تک ملتوی

جمعرات نومبر 16:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) وفاقی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان آئینی اصلاحات کیس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات کیلئے کمیٹی بنا دی ہے جس نے اپنے ٹی او آرز تیار کرلئے ہیں ۔جمعرات کو کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کی ۔

(جاری ہے)

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو ہمارے نوٹس لینے سے پہلے اس کا کام کرلینا چاہیے تھا حکومت نے اگر اس حوالے سے کوئی کمیٹی بنائی ہے تو تمام کمیٹی ممبران کو بلالیتے ہیں عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیا تھا جس میں صرف کمیٹی اور ٹی او آرز کی حکومت پیش رفت ناقابل قبول ہے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ معاملہ اتنے عرصے سے التواء کا شکار ہے اس کو 1947ء کے بعد حل ہونا چاہیے تھا وفاقی حکومت نے اس مسئلے کو براہ راست حل کیوں نہیں کرتی اٹارنی جنرل نے اس موقع پر موقف اختیار کیا کہ گلگت بلتستان سے متعلق قوانین میں تبدیلی کیلئے سفارشات کابینہ کے سامنے رکھی گئی ہیں وفاقی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے بنائی گئی کمیٹی نے ابتدائی طور پر ٹی او آرز بھی بنالئے ہیں چیف جسٹس انتہائی اہمیت کے حامل اس معاملے کو سرد خانے میں ڈالنا چاہتی ہے اٹارنی جنرل نے اس موقع پر دو دن کی مہلت مانگی اور بتایا کہ ابھی کابینہ میٹنگ جاری ہے عدالتی معاون اعتراز احسن نے اس موقع پر اٹارنی جنرل کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے عالمی قوانین کو مدنظر رکھنا چاہیے میری نظر میں اس معاملے میں وفاقی حکومت کو وقت دینا چاہیے عدالت نے وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کردہ اس کمیٹی کو پندرہ دنوںمیں رپورٹ مرتب کرکے جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت تیس دسمبر تک ملتوی کردی ہے