چیئر مین سینٹ نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ کے رواں سیشن میں داخلے پر پابندی عائد کردی

اپوزیشن کی جانب سے فواد چوہدری کے معافی مانگنے تک ایوان کا واک آؤٹ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی مشاہد اللہ کی تقریر اور ہمارے وزیر کی تقریر کا بھی متن لائیں، دیکھیں اجلاس میں کس نے غیر پارلیمانی بات کی ،ْ سینیٹر شبلی فراز ممبران پرچیئرمین، قائد ایوان اور حزب اختلاف کا احترام لازم ہے ،ْ ایوان میں ایسے الفاظ اور اشارے نہ کریں جو غیر مناسب ہیں ،ْ چیئر مین سینٹ

جمعرات نومبر 17:17

چیئر مین سینٹ نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ کے رواں سیشن میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ کے رواں سیشن میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔تفصیلات کے مطابق ایک روز قبل سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر چیئرمین نے وفاقی وزیر کا مائیک بند کردیا اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے پر انہیں تنبیہ کی۔

جمعرات کو سینیٹ میں وفاقی وزیر کے رویئے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور فواد چوہدری کی معافی کا مطالبہ کردیا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز کی بدمزگی کا ہمارے پاس علاج نہیں، سوائے اس کے کہ ہم باہر چلے جائیں، چیئرمین سینیٹ کے پاس اس کا علاج ہے، اگر آپ کی بھی بات نہ مانی جائے تو واک آؤٹ کرنا پڑیگا۔

(جاری ہے)

اپوزیشن کی جانب سے فواد چوہدری کے معافی مانگنے تک ایوان کا واک آؤٹ کرنے کی دھمکی دی گئی۔سینیٹر حاصل بزنجو نے وفاقی وزیر کی جانب سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جب تک یہ شخص ایوان سے معافی نہیں مانگے گا، اپوزیشن ایوان میں نہیں بیٹھے گی۔سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے فواد چوہدری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مشاہد اللہ خان نے ایک ممبر کابینہ کے بارے میں جو بات کی تھے اس کا متن منگوا لیں، مشاہد اللہ کی تقریر اور ہمارے وزیر کی تقریر کا بھی متن لائیں، دیکھیں اجلاس میں کس نے غیر پارلیمانی بات کی۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ سینیٹ میں بدمزگی پیدا ہونا شروع ہوئی ہے ،ْہم سب پر لازم ہے کہ احتیاط کریں۔چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر اطلاعات کو معافی مانگنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری ایوان میں آکر معافی مانگیں، اگر معافی نہیں مانگتے تو ان پر جاری اجلاس میں داخلے پر پابندی لگاتا ہوں۔صادق سنجرانی نے کہا کہ ممبران پر لازم ہے کہ وہ چیئرمین، قائد ایوان اور حزب اختلاف کا احترام کریں، ممبران ایوان میں ایسے الفاظ اور اشارے نہ کریں جو غیر مناسب ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کی ہدایت کے بعد سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ ایک گروہ ہے جو عملی طور پر پارلیمنٹ کو بے توقیر کرتا رہا، اب یہ اندربیٹھ کر پارلیمان کو بے توقیر کررہے ہیں، جب بھی اجلاس ہوگا وزیر اطلاعات آکر چیئرمین اور ایوان سے معافی مانگے گا اور کہے گا کہ آئندہ ایسا عمل دوبارہ نہیں کروں گا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سینیٹ میں آکر معافی نہیں مانگی جس کے بعد چیرمین سینیٹ کی رولنگ کے تحت ان کے رواں سینیٹ سیشن میں داخلے پر پابندی عائد ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وفاقی وزیر فواد چوہدری اور مسلم لیگ (ن) کے مشاہد اللہ کے درمیان سینیٹ میں تلخ کلامی ہوئی تھی ،ْوفاقی وزیر نے اپوزیشن کے خلاف دھواں دھار تقریر کی تھی تاہم اپوزیشن کے شدید احتجاج پر معافی بھی مانگ لی تھی۔