سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے عید میلا دالنبیؐ کے موقع پر پیغامات

منگل نومبر 23:37

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے عید میلا دالنبیؐ کے موقع پر  پیغامات
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ نبی اکرمؐ کا اسوہٴ حسنہ عدل و انصاف، سچائی بقائے باہمی، انسانیت سے ہمدردی، صبر و برداشت اور امن و محبت کی بہتر ین مثال ہے، آپؐکی سنت و تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا میں حقیقی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار عید میلا دالنبیؐ کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں کیا جو (آج) بدھ کو پورے عالم اسلام میں عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ عید میلادالنبی کے باسعادت موقع پر امت مسلمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نبی اکرمؐ کی آمد ساری کائنات کے لئے باعث رحمت اور آپؐ کی سیرت انسانیت کے لئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نبی اکرمؐ کی سنت پر عمل کرکے ہم اپنی تمام مشکلات سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے اپنے اوصاف کاملہ اور اعلیٰ کردار کے ذریعے لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں ایک انقلاب برپا کرکے انسانیت کو جہالیت کی اتھاہ تاریکیوں اور شرک کے اندھیروں سے نکال کر انسانیت کے اعلیٰ درجوں پر فائز کیا۔اسد قیصر نے کہا کہ نبی اکرمؐ کا امتی ہونا ہمارے لئے اللہ تعالی کا احسان عظیم ہے جس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نبی اکرمؐ کی حیات طیبہ مینار نور ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ نبی اکرمؐ انتہائی اعلیٰ اخلاق و اوصاف کے مالک تھے اور آپ نبی اکرمؐ نے پاکیزہ سیرت اور ذاتی عمل کے ذریعے انتہائی قلیل عرصہ میں لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لا کر دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے ایک مکمل ضابطہ اخلاق دیا۔

ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی پیروی ہر فرد کو کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرمؐ کی تعلیمات میں سب مسائل کا حل موجود ہے ان کے اسوہؐ حسنہ کی پیروی کرکے ہم رنگ ونسل کے امتیازات ختم کرکے اپنی زندگیوں کو خوشیوں سے بھر سکتے ہیں۔