امریکی پارلیمان نے صدر ٹرمپ کے ایمرجنسی کے نفاذکومسترد کردیا

سینیٹ میں ایمرجنسی کیخلاف 59 اور حمایت میں 41ووٹ ڈالے گئے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ مارچ 11:39

امریکی پارلیمان نے صدر ٹرمپ کے ایمرجنسی کے نفاذکومسترد کردیا
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 مارچ۔2019ء) امریکی پارلیمان نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ایمرجنسی کے نفاذکومسترد کردیا ہے . امریکی سینیٹ میں ایمرجنسی کیخلاف 59 اور حمایت میں 41ووٹ ڈالے گئے،حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے 12 ارکان نے بھی ایمرجنسی کیخلاف ووٹ دیا. امریکی سینیٹر چک شومر نے کہاہے کہ امریکا میں پہلی بار نیشنل ایمرجنسی کو سرکاری طور پر مسترد کیاگیا ہے‘دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاﺅس کے مطابق صدر ٹرمپ سینیٹ کے پاس کردہ بل کو ویٹو کردیں گے.

(جاری ہے)

ریپبلیکن پارٹی کے 12 ارکان نے سینیٹ میں متحد ڈیموکریٹک کاکس کا ساتھ دیا، جس کے نتیجے میں ریبپلیکن کی اکثریت والے اس ایوان میں یہ اقدام مسترد ہوا، جس سے وائٹ ہاﺅس کی پالیسی کی مخالفت سامنے آئی اور صدر کی جانب سے ویٹو کی د ھمکی نے بھی کام نہ کیا. نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے اقلیتی قائد چک شومر نے کہا ہے کہ یہ عام رائے دہی نہیں ہے اور نہ ہی یہ عام دن ہے انہوں نے کہا کہ پہلی بار نیشنل ایمرجنسی کے اعلان کو سرکاری طور پر مسترد کیا گیا ہے .

ریاست مین سے تعلق رکھنے والی ریپبلکن پارٹی کی سینیٹر، سوزن کولنز نے کہا کہ وہ امریکہ میکسیکو سرحد کے ساتھ سیکورٹی کو ٹھوس بنانے کے صدر ٹرمپ کے ہدف کی حامی ہیں لیکن کانگریس کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی حامی نہیں. اس سے قبل آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ سینیٹ میں اکثریت صدر ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے پاس ہے لیکن پارٹی کے کچھ ارکان نے صدر کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کے خلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے اس سے سرکاری اقدام کی مخالف قرارداد کی منظوری تقریباً یقینی ہو گئی ہے.

صدر ٹرمپ نے اسی بارے میں اپنی ایک ٹویٹ میں عندیہ دیا تھا انہوں نے لکھا کہ آج سینیٹ میں بارڈر سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم ووٹنگ ہونے والی ہے‘ اگر ضروری ہوا تو میں اسے ویٹو کرنے کو تیار ہوں ملک کی جنوبی سرحد قومی سیکورٹی کا معاملہ ہے اور انسانی بحران ہے مگر اسے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے. کانگرس نے اب تک صدر کو دیوار کھڑی کرنے کے لیے فنڈز نہیں دیے یہاں تک کہ اس وقت بھی ایسا کچھ نہیں ہوا جب صدر کے حکومتی دور کے پہلے دو سالوں میں ایوان میں ریپبلکنز کی اکثریت تھی.

امریکہ میں نیشنل ایمرجنسی ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جو صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے فیڈریل بجٹ استعمال کر سکتے ہیں تاہم امریکی ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ امریکی سرحدوں پر تحفظ کی کمی پر کئی دہائیوں سے بحث کی جا رہی ہے یہاں تک کہ جب صدر ٹرمپ نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے.

چند ریپبلکنز نیشنل ایمرجنسی ایکٹ میں ترمیم اس لیے چاہتے ہیں کہ آئندہ کوئی ڈیموکریٹ صدر کانگرس سے بچ نکلنے کے لیے اس کا استعمال نہ کر سکے. کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال اسی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تصور کیجیئے اگر کل کوئی سوشلسٹ اییجنڈا رکھنے والا صدر عالمی حدت سے متعلق ایک نیا معاہدہ فنڈ کرنے کا ارادہ کر لے یا اسلحہ رکھنے کے آئینی حق کے خلاف ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دے. انہوں نے مزید کہا کہ کانگرس کو بارڈر سیکورٹی کے معاملے پر فنڈز دینے ہی چاہیئں اس کی اہمیت سے انکار نہیں ہے تاہم کسی بھی صدر کو کانگرس کو بائی پاس نہیں کرنا چا ہیے.