تہران کے متنازع جوہری پروگرام: ایران کا واشنگٹن میں فرانسیسی سفیر کیخلاف شدیداحتجاج

پیر اپریل 20:50

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 اپریل2019ء) ایران نے واشنگٹن میں تعینات فرانسیسی سفیرکی جانب سے تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات کرنے پر پیرس کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ امریکا میں متعین فرانسیسی سفیر جیراڈ اراوڈ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ'ٹویٹر" پر ایک بیان میں کہا تھاکہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کی یقین دہانی کرانا ہوگی اور اسے سنہ 2025 کو جوہری معاہدہ ختم ہونے کے بعد بھی اپنا جوہری پروگرام پرامن رکھنا ہوگا۔

فرانسیسی سفیرکے اس بیان پر ایران نے فرانس کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں متعین فرانسیسی سفیرکو دفتر خارجہ طلب کرکے ان سے احتجاج کیا۔امریکا میںمتعین فرانسیسی سفیر نے مزید کہا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ایران کو سنہ 2025 کیبعد جوہری اسلحہ کی تیاری کا حق مل جائے گا اور وہ آزادانہ یورنیم افزودہ کر سکے گا۔

(جاری ہے)

انہوںنے مزید کہا کہ جوہری عم پھیلائو معاہدے اور اس کے اضافی پروٹوکول کے مطابق ایران کو اپنی تمام جوہری سرگرمیوں کی مسلسل معائنہ کاری کی اجازت دینا ہوگی۔فرانسیسی سفیر نے روس پر ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ میں یورینیم افزودہکرن میں مدد فراہم کرنے کا الزام عاید کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو عالمی طاقتوں سے طیپائے سمجھوتے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اپنا جوہری پروگرام پرامن رکھنے کے اصول کی پابندی کرنا ہوگی۔

ان کے اس بیان پر ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں متعین سفیر فیلپ ٹیپو کو طلب کرکے فرانس کے امریکا میں متعین سفیر کے بیان پر ان سے شدید احتجاج کیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے عہدیدار حسین سادات میدانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں امریکی سفیر کیایران کیجوہری پروگرام کے متعلق ریمارکس ناقابل قبول ہیں۔ انہوںنے کہا کہ فرانس کو اپنے سفیر کے بیان کی وضاحت کرنا ہو گی۔