انار کی تتلی و پھل کی مکھی پھل میں سوراخ کر کے اند ر داخل ہو کر نقصان پہنچاتی ہے، باغبان انار کے پودوں کو ضرررساں کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ضروری اقدامات کریں ،محکمہ زراعت کی ہدایت

جمعرات جون 14:22

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 جون2019ء) محکمہ زراعت کی طرف سے انار کے باغبانوں کو سفارش کی گئی ہے کہ وہ پودوں کو ضرررساں کیڑوں اور بیماریوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں تاکہ فی ایکڑ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے ۔محکمہ کے ترجمان نے بتایاکہ انار کی تتلی اور پھل کی مکھی پھل میں سوراخ کر کے اند ر داخل ہو جاتی ہے جو اندر سے پھل کو کھا کر نقصان پہنچاتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ تتلی و مکھی کے حملہ سے پھل گل سڑ جاتا ہے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے ۔انہوں نے باغبانوں کو ہدایت کی کہ وہ بیماری کے حملہ کی صورت میں متاثرہ پھل کو اکٹھاکر کے زمین میں دبا دیں اور پھل کی مکھی کے تدارک کیلئے روشنی کے پھندے لگائیں اور ان کے کیمیائی تدارک کیلئے لیمڈا سائی ہیلو تھر ین یا ٹرائی کوفان بحساب 2.5 ملی لیٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید بتایاکہ یہ کیڑے اپنے جسم سے فاسد مادے بھی خارج کرتے ہیں جس سے پتوں پر سیا ہ اولی اگ آتی ہے جس سے ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیلز کے حملہ کی صورت میں کاربوسلفان 20 ای سی بحساب 2.5 ملی لیٹر پانی اور سفید مکھی کے تدارک کیلئے امیڈا کلو پرڈ 200 ایس ایل بحساب 2.50 ملی لٹر ٹرائی ایزوفاس 40 ای سی 1.50 ملی لٹر پانی میں حل کرکے 8 سے 10 دن کے وقفہ سے سپرے کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :