ڈی آر سی حویلیاں نے 4 افراد کے قتل و جائیداد کے تنازعہ کو حل کر دیا

جمعہ جولائی 00:09

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جولائی2019ء) ڈی آر سی حویلیاں ضلع ایبٹ آباد نے 4 افراد کے قتل و عرصہ دراز چلے آ رہے جائیداد کے تنازعہ کو حل کر دیا، دونوں فریقین خاندان بغلگیر ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ حویلیاں کی حدود لنگرہ میں جائیداد کے تنازعہ پر دو فریقین اکثر خان ولد خان افسر سکنہ لنگرہ اور افضال خان ولد علی اکبر خان سکنہ لنگرہ میں عرصہ دراز سے مقدمات چلے آ رہے تھے جس میں ایک فریق کے تین افراد جبکہ دوسرے فریق کا ایک فرد قتل ہو چکا تھا، 4 جولائی 2014ء دونوں فریقین کے درمیان جھگڑا ہوا جس میں اکثر خان کے تین سگے بھائی سید اختر، خضر خان اور فخر زمان موقع پر فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے جن کی دعویداری ملزمان تنویر خان، افتخار خان عرف فوجیا اور علی اکبر خان پسران اکبر خان کے خلاف کی گئی۔

(جاری ہے)

تھانہ حویلیاں میں دفعہ 34/302 کے تحت مقدمہ درج ہوا جس میں تینوں ملزمان میں سے افتخار خان عرف فوجیا مفروری کے عرصہ کے دوران 11 مارچ 2019ء کو راولپنڈی کے تھانہ کینٹ کی حدود میں قتل ہو گیا جس کی دعویداری مخالف فریق اکثر خان وغیرہ پر کی گئی اور اس طرح جائیداد کے اس تنازعہ نے چار افراد کی جان لے لی تھی۔ اس ساری صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی آر سی حویلیاں نے شہر کے امن و امان کے حوالہ سے وسیع تر مفاد اور قتل مقاتلے کی اس لڑی کو ختم کرنے کیلئے دونوں فریقین کو ڈی آر سی کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔

دونوں فریقین کے اتفاق کے بعد اور کیسز کو نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کیسز ترجیحی بنیادوں پر ڈی آر سی حویلیاں میں سنے جانے لگے جس میں دونوں فریقین کو کھلم کھلا اپنے خیالات، احساسات اور شکوک و شبہات بیان کرنے کا برابر موقع دیا گیا۔ دونوں فریقین کے صلاح مشورے اور رضا سے ڈی آر سی ایبٹ آباد و حویلیاں، ڈی پی او ایبٹ آباد عباس مجید خان مروت کی خصوصی ہدایت پر ڈی ایس پی حویلیاں و مقامی پولیس کی انتھک محنت اور کوششوں سے آخر کار دونوں فریقین ایک دوسرے کو معاف کرنے پر راضی ہو گئے۔

اس حوالہ سے گذشتہ روز ڈی آر سی حویلیاں کی سربراہی میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں ایس پی انوسٹی گیشن عزیز خان آفریدی، ڈی آر سی ایبٹ آباد کے منتظمین جنرل (ر) ایاز سلیم رانا و ممبران، ڈی آر سی حویلیاں کے سلیم خان و ممبران، ڈی ایس پی حویلیاں اور دونوں فریقین نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو معاف کرنے کے ساتھ ساتھ جائیداد کے اس تنازعہ کو ختم کرتے ہوئے آئندہ باہمی رضامندی اور بھائی چارے سے رہنے کا اعلان کیا اور دونوں فریقین باہمی رضا مندی اور خوشی سے بغلگیر ہو گئے۔