جڑی بوٹیوں کی تلفی سے تل کی پیداوار میں 25فی صد اضافہ ممکن ہے

ہفتہ اگست 18:14

راولپنڈی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 اگست2019ء) زرعی ماہرین نے کہاہے کہ تِل کی فصل میں جڑی بوٹیوں کے اگنے اوربروقت تلفی نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار میں 20 سے 25 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے تاھم ان جڑی بوٹیوں کی تلفی سے فصل کا بچائو ممکن ہے ۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے حوالہ سے فصل اگنے سے 6 ہفتے بعد تک کا عرصہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ تل کی فصل اگنے سے 40 تا 45 دن تک جڑی بوٹیوں سے پاک رکھی جائے تاکہ بہتر پیداوار حاصل کی جاسکے۔

(جاری ہے)

جڑی بوٹیاں نہ صرف روشنی ، خوراک اور پانی کے حصول میں فصل کا مقابلہ کرتی ہیں بلکہ تل کے پودوں کی نسبت 2 سے 3 گنا تیزی کے ساتھ ان کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔جڑی بوٹیاں مختلف ضرررساں کیڑوں اور بیماریوں کے میزبان پودوں کے طور پر بھی کام کر تی ہیں۔ ضرررساں کیڑوں اور بیماریوں کے جراثیم پہلے جڑی بوٹیوں پر پروان چڑھتے ہیں اور پھر تل کی فصل پر منتقل ہو کرفی ایکڑ پیداوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔جڑی بوٹیوں کے پودوں کی جڑوں سے کچھ ایسے کیمیکلز بھی خارج ہوتے ہیں جوتل کے پودوں کی بڑھوتری کیلئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :