انگلش اور آسٹریلوی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان کا امکان

دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے سربراہان اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے، عالمی چیمپئن اور سابق عالمی چیمپئن کی جانب سے پاکستان میں کم از کم ایک میچ کھیلنے کیلئے رضامندی ظاہر کرنے کا امکان

muhammad ali محمد علی پیر اگست 23:02

انگلش اور آسٹریلوی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان کا امکان
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اگست2019ء) انگلش اور آسٹریلوی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان کا امکان، دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے سربراہان اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے، عالمی چیمپئن اور سابق عالمی چیمپئن کی جانب سے پاکستان میں کم از کم ایک میچ کھیلنے کیلئے رضامندی ظاہر کرنے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے ماہ میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل واپسی کیلئے بڑا بریک تھرو ہونے کا امکان ہے۔

اس حوالے سے ایم ڈی پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان خاصے متحرک ہیں۔ ویسم خان کی کوششوں سے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز کے سربراہان اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس دوران پاکستان میں سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عالمی چیمپئن انگلینڈ اور آسٹریلیا دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیمیں پاکستان میں کم از کم ایک میچ کھیلنے کیلئے راضی ہو سکتی ہیں۔

اس حوالے سے کچھ مثبت اشارے بھی ملے ہیں۔ دوسری جانب سیکیورٹی ٹیم کی مثبت رپورٹ کے بعد سری لنکا نے پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے پر غور شروع کردیا۔ سری لنکا کے سیکیورٹی وفد نے لاہور اور کراچی کا دورہ کرکے بورڈ کو انتہائی مثبت رپورٹ دی ہے جس کے بعد تمام چیزیں معمول کے مطابق ہونے پر پاکستان میں مارچ 2009 کے لاہور حملے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ واپس آسکتی ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ورلڈٹیسٹ چیمپئن شپ کی پہلی سیریز کو کسی نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کی تجویز دی گئی تھی تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکن بورڈ کو یہ سیریز پاکستان میں کھیلنے کی پیشکش کی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی پیشکش کے بعد سری لنکن بورڈ نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اپنا وفد بھیجا تھا۔سری لنکن کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایشلے ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی سیکیورٹی ٹیم کی جانب سے انتہائی مثبت رد عمل ملا جس کے بعد ٹیم بھیجنے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ سے کچھ متبادل صورت پر بھی بات کی جائے گی جب کہ اس حوالے سے حکومت سے بھی صلاح مشورہ کیا جائے گا۔