لیڈی کانسٹیبل کوتھپڑ مارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وکیل احمد مختار

5ستمبرکو پیش آنے والے واقعے کو غلط رنگ دیا گیا، کچہری کے گیٹ پرکانسٹیبل علی احمد سے معمولی تکرار ہوئی، ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے مقدمے کی مدعیہ کو ہتھکڑی پکڑا کر قانون کی خلاف ورزی کی۔لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل احمد مختار کا مئوقف

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار ستمبر 21:30

لیڈی کانسٹیبل کوتھپڑ مارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وکیل احمد مختار
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 ستمبر2019ء) شیخوپورہ فیروزوالا میں لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل احمد مختار کا مءوقف بھی سامنے آگیا ہے۔ احمد مختار نے کہا کہ 5 ستمبرکو پیش آنے والے واقعے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے، لیڈی کانسٹیبل کوتھپڑ مارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کچہری کے گیٹ پرکانسٹیبل علی احمد سے معمولی تکرار ہوئی، ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے مقدمے کی مدعیہ کو ہتھکڑی پکڑا کر قانون کی خلاف ورزی کی۔

تفصیلات کے مطابق خاتون پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کے مقدمے میں ملوث وکیل احمد مختار
نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ لیڈی کانسٹیبل پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔

(جاری ہے)

تھپڑ مارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچہری کے گیٹ پر کانسٹیبل علی احمد سے معمولی تکرار ہوئی۔ وکیل احمد مختارنے کہا کہ عدالت پیشی کے موقع پر مقدمہ کی مدعیہ کو ہتھکڑی پکڑا کر ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے قانون کی خلاف ورزی کی اور میری ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

کانسٹیبل سے معمولی تکرار کو پولیس نے انا کا مسئلہ بنایا اور لیڈی کانسٹیبل کو میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ ڈی ایس پی فیروزوالا ملک یعقوب اعوان، ایس ایچ او فیروزوالا رفیع اللہ نیازی نے سوچی سمجھی سازش کے تحت میرے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا۔ وکیل احمد مختارنے کہا کہ ڈی ایس پی فیروزوالا 50 مسلح افراد کے ساتھ بلا مقدمہ میرے چیمبر میں آیا اور سرچنگ کی۔

وکیل احمد مختار نے کہا کہ لیڈی کانسٹیبل ایس ایچ او اور ڈی ایس پی فیروزوالا کی ایما پر ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے مقدمہ کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایس ایچ او فیروزوالا رفیع اللہ نیازی ، ڈی ایس پی فیروزوالا ملک یعقوب اعوان کی معطلی تک احتجاج جاری رہے گا۔ وکیل احمد مختار نے کہا کہ وکلاء برادری قانون کو ہاتھ میں لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

لیڈی کانسٹیبل کو ہتھکڑی پکڑا کر ایس ایچ او رفیع اللہ نیازی نے کچہری میں فساد فی الارض کی کوشش کی۔ وکیل احمد مختار نے کہا کہ لیڈی کانسٹیبل کو ہتھکڑی پکڑائی جو کہ تھانہ فیروزوالہ کی ملازمہ بھی نہیں تھی۔ پولیس کسٹڈی میں ہونے والی اموات سے میڈیا کی نظر ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ وکیل احمد مختار نے کہا کہ کون سچا اور جھوٹا ہے اسکا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔