برطانوی حکومت کا غیر ملکی طلبہ کو گریجویشن مکمل کرنے کے بعد دوسال تک برطانیہ میں قیام کی اجازت دینے کا فیصلہ

بدھ ستمبر 11:52

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) برطانوی حکومت نے سٹوڈنٹ ویزا رولز میں ترمیم کرتے ہوئے غیر ملکی طلبہ کو گریجویشن مکمل کرنے کے دو سال بعد تک برطانیہ میں قیام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس عٖرصہ کے دوران غیر ملکی طلبہ برطانیہ میں ملازمت تلاش کرسکیں گے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ وزارت داخلہ کی تجویز پر کیا گیا۔

قبل ازیں2012 ء میں اس وقت کی وزیر داخلہ تھریسا مے کی طرف سے کئے گئے فیصلے کے مطابق غیر ملکی طلبہ کو گریجویشن مکمل کرنے کے بعد چار ماہ کے اندر لازماً برطانیہ سے واپس جانا ہوتا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس اقدام کے بعد غیر ملکی طلبہ کو برطانیہ میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر آئیں گے۔

(جاری ہے)

نئے اقدام کا اطلاق ان غیر ملکی طلبہ پر ہوگا جنہوں نے برطانوی تعلیمی اداروں میں انڈر گریجویٹ کورسز کا آغاز کیا ہے۔

بورس جانسن نے کہا کہ غیر ملکی طلبہ کو برطانیہ میں حال ہی میں شروع کئے گئے دنیا کے سب سے بڑے جینیٹک ریسرچ پراجیکٹ میں مہلک امراض کے علاج پر تحقیق کا موقع بھی ملے گا۔ برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ غیر ملکی طلبہ بارے یہ فیصلے برطانیہ کی عالمگیر سوچ کا عکاس ہے۔ یونیورسٹیز یو کے کے چیف ایگزیکٹو ایلسٹیئر جارویز نے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ برطانوی معیشت کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طلبہ نے برطانوی سماج میں مثبت تبدیلیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ برطانوی معیشت کے حجم میں 26 ارب پائونڈ کا اضافہ بھی کیا ہے۔