ایران نئے سینٹری فیوجز نصب کررہا ہے، عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی

یہ تمام سینٹری فیوجزٹیسٹ کے لیے تیار کیے گئے تھے تاہم سات ،آٹھ ستمبر کو نگرانی کے وقت تک انہیں ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا،بیان

بدھ ستمبر 13:32

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2019ء) اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کرنے والے ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید جدید سینٹری فیوجز کے استعمال کی تیاری کررہا ہے۔ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی حالیہ خلاف ورزی کا اعلان پہلے ہی کرچکا ہے اور اس کے ذریعے اپنی معیشت پر لگی امریکی پابندیوں میں نرمی کے لیے یورپی فریقین پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے نے کہا کہ اس کے انسپکٹرز نے نئے سینٹری فیوجز کی تنصیب کی تصدیق کی ۔عالمی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام سینٹری فیوجزٹیسٹ کے لیے تیار کیے گئے تھے تاہم سات ،آٹھ ستمبر کو نگرانی کے وقت تک انہیں ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے 2015 میں ایک جوہری معاہدہ کیا گیا تھا لیکن امریکا کی جانب سے گزشتہ برس مئی میں اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد یہ ختم ہوگیا تھا اور امریکا نے ایران پر پابندیوں میں اضافہ کردیا تھا۔

معاہدے میں شامل دیگر فریقین برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس تھے، اس کے ساتھ یورپی یونین بھی معاہدے کا حصہ ہے جو تہران کے مطالبے پورے کرنے کی راہ تلاش کرتے ہوئے معاہدہ برقرا رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔دوسری جانب ایران ان فریقین پر دباؤ ڈالنے کے لیے پہلے ہی جوہری افزودگی اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے حوالے سے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کا اعلان کر کے جوہری معاہدے کی حدود سے تجاوز کرچکا ہے۔

اس ضمن میں جب آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کورنل فرٹولا سے پوچھا گیا کہ کیا نئے سینٹری فیوجز کا مقصد یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہی تو انہوں نے جواب دیا کہ ’نتیجہ کوئی ا?سان معاملہ نہیں‘ اور نہ ہی ادارہ اس بات کا جائزہ لے کر بتاسکتا ہے کہ اس قسم کے اقدام کا کیا نتیجہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے واضح کردیا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے کا کام معاہدے کے دیگر فریقین کو حقائق سے آگاہ کرنا ہے۔