عراقی حکومت کا جرمن و مصری کمپنیوں کے ساتھ 1.7 گیگا واٹ بجلی کی پیداوار کا معاہدہ

اتوار ستمبر 11:20

بغداد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 ستمبر2019ء) عراقی حکومت اور جرمن و مصری کمپنیوں کے درمیان تباہ شدہ شمالی شہر بائجی میں1.3 ارب ڈالر سے 1.7 گیگا واٹ بجلی پیداکرنے کی صلاحیت کے حامل پاور پلانٹ کی تعمیر نو کا معاہدہ طے پاگیا،اس کا مقصد ملک کو درپیش بجلی کے بحران سے نجات دلانا ہے۔

(جاری ہے)

معاہدہ جرمنی کے صنعتی گروپ ’’سمنز‘‘ ، مصری تعمیراتی کمپنی ’’ اوریسکم‘‘ اور عراقی حکومت کے درمیان گزشتہ روز بغداد میں طے پایا جس پر حکومت کی جانب سے وزیر بجلی لوائے الخطیب جبکہ سمنز اور اوریسکم کی جانب سے ان کے سربراہان جوقیصر اور اسامہ بشاعی نے دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت سمنز اور اوریسکم داعش کے ہاتھوں تباہ شدہ عراق کے شمالی شہر بائجی میں تباہ شدہ دو پاور پلانٹس میں سے ایک کی تعمیر نو ہے، اس منصوبے پر 1.3 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔سرکاری ذرائع کے مطابق ملک کی بجلی کی ضرورت 24 گیگا واٹ ہے جبکہ فی الوقت مجموعی ملکی پیداوار 15 گیگا واٹ ہے جس کے باعث بجلی کا شدید بحران ہے۔یاد رہے کہ یہ منصوبہ عراقی حکومت کے رواں سال کے آغاز پر بڑے پیمانے پر بجلی پیداکرنے کے لیے پاور پلانٹ کی تعمیر نو بارے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 11 گیگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔