مہران ابڑو نے نمرتا اور اپنے درمیان اسٹیٹس کے فرق کو جواز بنا کر شادی سے انکار کر دیا تھا

مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئی تھی، ہو سکتا ہے اس نے اس لیے خودکشی کر لی ہو: تفتیشی ادارے کی رپورٹ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ ہفتہ ستمبر 21:27

مہران ابڑو نے نمرتا اور اپنے درمیان اسٹیٹس کے فرق کو جواز بنا کر شادی ..
لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 ستمبر 2019ء) آصفہ ڈینٹل کالج کے ہاسٹل میں جان بحق ہونے والی ڈاکٹر نمرتا کے حوالے سے تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ نمرتا مہران ابڑو سے شادی کرنا چاہتی تھی اور مہران اور اس کے گھر والوں نے بھی شادی کی ہامی بھر رکھی تھی لیکن چند ماہ قبل مہران نے نمرتا اور اپنے درمیان اسٹیٹس کے فرق کو جواز بنا کر شادی سے انکار کر دیا تھا۔

مہران ابڑو نے مزہب کی تبدیلی کو بھی مسئلہ قرار دیا تھا۔ مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئی تھی، ہو سکتا ہے اس نے اس لیے خودکشی کر لی ہو۔ تفتیشی حلقوں کامحور مہران ابڑو ہے جو نمرتاکی موت کے بعد سےبےحد پریشان ہے ۔ مہران ابڑو نے اپنے فون سےدونوں کے درمیان ہونےوالی تمام چیٹ پہلے ہی ضائع کر دی تھیں۔

(جاری ہے)

مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنےوالے کہتےہیں کہ نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدیدماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئےجانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پولیس نمرتا کیس سے متعلق مہران ابڑو اور علی شان میمن سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مہران ابڑو اور نمرتا کی دوستی ڈینٹل کالج میں 2015ء میں ہوئی جو پیار میں تبدیل ہو گئی۔

مہران ابڑو کے والد عبد الحفیظ ریٹائرڈ بینک ملازم اور والدہ ٹیچر ہیں۔ نمرتا چار سال تک مہران ابڑو اور اس کے خاندان کا خرچ چلاتی رہی۔ نمرتا کا اے ٹی ایم کارڈ بھی مہران ابڑو کے استعمال میں تھا۔ مہران کی بہنوں کو نمرتا شاپنگ بھی کرواتی رہی۔ نمرتا کو مہران کے والدین شادی کا آسرا دیتے رہے۔ لیکن چار سال کے بعد مہران کے والدین نے شادی سے انکار کر دیا۔

تفتیشی ذرائع نے کہا کہ نمرتا کے اہل خانہ ساری صورتحال سے واقف تھے۔ مہران ابڑو اور اس کے اہل خانہ نمرتا کے بھائی کی کراچی میں ہونے والی شادی میں بھی شریک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ 16 ستمبر کو آصفہ بی بی ڈینٹل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل سے نمرتا چندانی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعہ کو خود کُشی قرار دیا جا رہا تھا لیکن نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے اس واقعہ کو قتل قرار دیا۔