کوئٹہ،سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ جاری

ہفتہ نومبر 20:48

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 نومبر2019ء) سی پی ڈی آئی کی جانب سے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ جاری کر دی گئی۔جس سے ضلعی سطح پر بجٹ شفافیت، رائج طریقہ کار، بجٹ کیلنڈر پر عمل اورعوامی شمولیت سے متعلق مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مندرجات پیش کرتے ہوئے سٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکانٹیبلٹی کی مقامی رکن تنظیم سوشل سنگت کے ڈائریکٹر خالد میر نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں مقامی حکومتوں کا موجودہ قانون 2010 میں نافذ ہوا لیکن ابھی تک نئے بجٹ رولز نہیں بنائے گئے۔

اسی لیے موجودہ قانون سابقہ بجٹ رولز سے متصادم ہے جس کے باعث پرانے بجٹ رولز پر عمل ممکن نہیں جو ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ بجٹ سازی میں عوامی شمولیت جمہوری عمل پر عوامی اعتماد میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔

(جاری ہے)

سروے کیے جانیوالی23 میں سے 5اضلاع نے بجٹ سازی سے پہلے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی۔جبکہ 12 اضلاع نے صرف ضلعی افسران،ضلع کونسل یا پھر عوامی نمائندوں اورچھ اضلاع نے غیر سرکاری تنظیموں اور عوام کیساتھ مشاورت کا دعوی کیا ہے۔

بجٹ سازی کے دوران بجٹ کیلنڈر پر عمل کرنا از حد ضروری ہوتا ہے کیونکہ اسکے مختلف مراحل میں تاخیر یا تعطل بجٹ سازی کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ستمبر کے مہینہ میں بجٹ کال لیٹر جاری کیا جانا ضروری ہے لیکن سروے کیے جانیوالی23میں سے 19 اضلاع کو بجٹ کال لیٹر موصول نہیں ہوا۔ صرف دو اضلاع کو 15نومبر 2018 سے قبل، ایک کو 15 نومبر 2018 اور 31 مارچ 2019 کے درمیان جبکہ ایک ضلع ایسا ہے جہاں بجٹ کال لیٹر 31مارچ کے بھی بعد موصول ہواانہوں نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کی تاریخ 30 جون تک ہوتی ہے لیکن 23میں سے 11 اضلاع اس سے قبل اپنا بجٹ منظور نہیں کرواسکے۔

صوبہ بلوچستان میں معلومات تک رسائی کا مثر قانون نہ ہونے کے باعث ضلعی سطح پر شہریوں کی معلومات تک رسائی اور شفافیت کے فروغ میں مختلف اضلاع کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے سروے کیے گئے کسی بھی ضلع کی ویب سائٹ نہیں ہے جبکہ ایک ضلع کی جانب سے پری بجٹ سٹیٹمنٹ جبکہ دو اضلاع کی جانب سے سیٹیزن بجٹ جاری کرنے کا دعوی کیا گیا۔یاد رہے کہ سیٹیزن بجٹ ایک ایسی دستاویز ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک عام شہری اپنے ضلع کے بجٹ کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔

23 میں سے صرف ایک ضلع میں بجٹ برانچ موجود ہے جبکہ 12 اضلاع میں بجٹ سازی کیلئے کوئی عملہ موجود نہیں ہے سی پی ڈی آئی کے صوبائی کوآرڈینیٹر محمد آصف نے کہا کہ مقامی حکومتوں کوبااختیار بنایا جائے،بجٹ سازی کا عمل بجٹ کیلنڈر کے مطابق شرو ع ہونا چاہیے،بجٹ کی منظوری مالی سال شروع ہونے سے پہلے ہو جانی چاہیے، صوبائی حکومت بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ2010کے تحت نئے بجٹ رولزتشکیل دے، صوبائی حکومت ضلعی حکومتوں کو انسانی وسائل فراہم کرکے ایسی قانون سازی کرے کہ ضلعی حکومتیں بجٹ سازی کے عمل کو آزادانہ طور پر مکمل کر سکیں۔

صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ کا فی الفور اجرا کیا جائے تاکہ اضلاع اپنے مختص شدہ بجٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرسکیں۔ شہری تنظیموں کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے۔بجٹ سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی انکی مشاورت سے ہونی چاہیے،شہریوں کی سہولت کیلئے سیٹیزن بجٹ کو بجٹ دستاویزات کا لازمی جزو بنایاجائے اور تمام اضلاع اس دستاویز کو شائع کرنے اور وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کو یقینی بنائیں، سروے کردہ تمام اضلاع کی ویب سائٹس موجود نہیں ہیں اس لیے تمام اضلاع کو چاہیے کہ اپنی ویب سائٹ بنا کر سالانہ بجٹ ان پر شائع کریںاستقبالیہ تقریر کے دوران محمد آصف نے شرکا کو بتایا کہ بجٹ ایک انتہائی اہم پالیسی دستاویز ہے۔

دورِ جدید میں حکمرانی اور پالیسی سازی میں فعال عوامی شمولیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔وفاقی اور صوبائی بجٹ پر نیشنل و صوبائی اسمبلی اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں سیر حاصل بحث کی جاتی ہے، تاہم ضلعی بجٹ کی منطوری میں مکمل خاموشی اور رازداری بروئے کار لائی جاتی ہے۔ اِس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ضلعی بجٹ عوامی گروہوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا میں بحث کے لئے پیش کئے جائیں تا کہ ضلعی ترقی کے ایجنڈے کو مقامی سیاق و سباق میں پرکھا جا سکی